اور بلاشبہ یقینا اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور انھیں قوت دی اور اللہ کو قرض دیا، اچھا قرض تو یقیناً میں تم سے تمھارے گناہ ضرور دور کروں گا اور یقیناً تمھیں ایسے باغوں میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا تو یقیناً وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
En
اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور انہی میں سے باره سردار ہم نے مقرر فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یقیناً میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے رسولوں کو مانتے رہو گے اور ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ کو بہتر قرض دیتے رہو گے تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں، اب اس عہد و پیمان کے بعد بھی تم میں سے جو انکاری ہو جائے وه یقیناً راه راست سے بھٹک گیا
En
12۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل سے بھی پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ [33] سردار مقرر کئے اور فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ [34] ہوں“ اگر تم نے نماز کو قائم رکھا، زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لا کر ان کی مدد کرتے رہے اور اللہ (کے بندوں) کو قرض حسنہ دیتے رہے تو میں یقیناً تمہاری برائیاں [35] تم سے زائل کر دوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، پھر اس کے بعد بھی اگر تم میں سے کسی نے کفر کیا، وہ سیدھی [36] راہ سے بھٹک گیا
[33] بنی اسرائیل کے بارہ نقیب اور ان کی ذمہ داریاں:۔
نقیب کے معنی ہیں نگرانی اور تفتیش کرنے والا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور موسیٰؑ کے زمانہ میں موجود تھے۔ بنی اسرائیل نے جب موسیٰؑ سے پانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو تو بارہ چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہر قبیلہ نے اپنا اپنا چشمہ یا پانی پینے کی جگہ پہچان لی اور اس پر قابض ہو گیا۔ انہیں بارہ قبائل میں سے ہر قبیلہ سے ایک ایک نقیب مقرر کیا گیا۔ جس کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرے اور انہیں بے دینی اور بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ [34] اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ معیت چار باتوں سے مشروط تھا۔ (1) بنی اسرائیل نماز کو قائم کرتے رہیں (2)زکوٰۃ ادا کرتے رہیں (3) بعد میں جو رسول مبعوث ہوں ان پر ایمان بھی لائیں اور ان کی جان اور مال سے مدد بھی کریں اور (4) لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتے رہیں۔ گویا جو ذمہ داری ان نقیبوں پر ڈالی گئی تھی ان میں سے مذکورہ چار کام سب سے اہم تھے اور ان سے عہد یہ تھا کہ اگر وہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے تو یقیناً اللہ ان کے ساتھ ہو گا اور ان کی ہر معاملہ میں مدد فرمائے گا۔ [35] برائیاں دور کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص نیکی کے مذکورہ بالا بڑے بڑے کاموں میں لگا رہے اس کا ذہن برائیوں کی طرف منتقل ہوتا ہی نہیں اور وہ برائیوں سے بچا رہتا ہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ان سے کچھ برائیاں سرزد ہو بھی جائیں تو وہ ایسی بڑی نیکیوں کے تلے دب جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر گرفت ہی نہیں فرماتے۔
[36] سیدھی راہ اور اس کی صفات:۔
سواء السبیل سے مراد وہ راہ ہے جو متوازن، معتدل اور افراط و تفریط سے پاک ہو۔ کیونکہ یہ راہ اس علیم و حکیم ہستی کی بتلائی ہوئی ہے جو تمام حقائق سے پوری طرح واقف ہے اور سب انسان اس کی نظروں میں یکساں ہیں۔ یہ کسی انسان کی بتائی ہوئی راہ نہیں۔ جس پر اس کے اپنے جذبات، وطن اور قوم کی محبت یا دوسری معاشی اور معاشرتی عوامل اثر انداز ہو جاتے ہیں اور وہ ایسی معتدل، متوازن اور افراط و تفریط سے پاک راہ کا سراغ لگا بھی نہیں سکتا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے خود ہی انسانوں کو یہ راہ بتلا دی جس سے انہیں اس دنیا میں بھی اس راستہ کی تلاش کے لیے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی وہ کامرانیوں سے ہمکنار ہو جائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔