ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ المائده (5) — آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! عہد پورے کرو۔ تمھارے لیے چرنے والے چوپائے حلال کیے گئے ہیں، سوائے ان کے جو تم پر پڑھے جائیں گے، اس حال میں کہ شکار کو حلال جاننے والے نہ ہو، جب کہ تم احرام والے ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ En
اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے
En
اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو، تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا، یقیناً اللہ جو چاہے حکم کرتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ اے ایمان والو! اپنے معاہدات [1] کو پورا کرو۔ تمہارے لیے ہر مویشی قسم کے چرنے والے جانور حلال [2] کئے گئے ہیں۔ سوائے ان جانوروں کے جو (آگے چل کر) تمہیں بتائے جا رہے [3] ہیں۔ البتہ احرام کی حالت [4] میں ان کا شکار حلال نہ سمجھو۔ اور اللہ تعالیٰ وہی حکم دیتا ہے [5] جو وہ چاہتا ہے
[1] ایفائے عہد:۔
قرآن میں کئی مقامات پر یہ صراحت موجود ہے کہ یہود کی بد عہدیوں اور عہد شکنیوں کے باعث ان پر کئی ایسی چیزیں حرام کر دی گئی تھیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں لہٰذا اس سورۃ میں حلت و حرمت کے احکام بیان کرنے سے پیشتر بطور تمہید اپنے معاہدات کو پورا کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے خواہ یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہوں یا لوگوں سے، بیع و شرا سے متعلق ہوں یا نکاح اور منگنی وغیرہ سے، اپنوں سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر مسلموں سے، صلح سے متعلق ہوں یا جنگ سے غرض ہر طرح کے معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عہد کو پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے جیسا کہ پہلے اس ضمن میں صحیح احادیث درج کی جا چکی ہیں۔
[2] حلال اور حرام جانور:۔
انعام سے اہل عرب کے ہاں اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ مراد لیے جاتے ہیں اور بہیمہ وہ جانور ہیں جن کا گزارا گھاس پات پر ہوتا ہو۔ اس طرح اس قبیل میں وہ جانور بھی شامل ہو جاتے ہیں جو نباتاتی غذاؤں پر پرورش پاتے ہوں اور عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہوں مثلاً گائے کے ساتھ نیل گائے، بھینس اور بکری کے ساتھ ہرن اور بارہ سنگھا وغیرہ بھی حلال ہوں گے اور جو جانور حیوانی غذا پر پرورش پاتے ہیں بالفاظ دیگر جو جانور گوشت خور ہیں وہ سب حرام ہیں جنہیں عام زبان میں درندے کہا جاتا ہے چنانچہ سیدنا ثعلبہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا
[بخاری۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اکل کل ذی ناب من السباع۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب تحریم اکل ذی ناب]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شکاری پرندے کو حرام قرار دیا جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے۔
[حواله ايضاً]
[3] یعنی اس سورۃ کی تیسری آیت میں بیان ہوں گے۔
[بخاری کتاب الجہاد۔ باب اسم الفرس والحمار]
پھر جس طرح احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں بھی شکار کرنا حرام اور ممنوع ہے فرق صرف یہ ہے کہ حرم مکہ میں کسی وقت بھی شکار نہیں کیا جا سکتا خواہ کوئی احرام کی حالت میں ہو یا نہ ہو۔ جبکہ احرام باندھنے والا احرام کھولنے کے بعد حرم مکہ کے علاوہ دوسرے مقامات سے شکار کر سکتا ہے اور جس طرح احرام کی چند ایک پابندیاں ہیں اسی طرح حرم مکہ کی بھی ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ حج کی آیت نمبر 25 کا حاشیہ۔
[5] حلت و حرمت کے اختیارات:۔
یعنی حلت و حرمت کے یا بالفاظ دیگر قانون سازی کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔ لہٰذا جس چیز کو وہ چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام کر دے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چند اشیاء کی حلت و حرمت کے احکام دیئے ہیں وہ یا تو اس اختیار کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے احکام دیئے ہیں جو اللہ نے آپ کو بحیثیت اللہ کے رسول تفویض فرمائے یا پھر وحی خفی کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا تھا اہل ہنود تین چیزوں خدا، روح اور مادہ کو ازلی ابدی قرار دیتے ہیں۔ روح کو ازلی ابدی تسلیم کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ تمام ذی حیات یا جاندار اشیاء انسان کے ہم مرتبہ ہیں لہٰذا انسان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی موذی جانور کو گزند پہنچائے یا اسے مار ڈالے یا اپنے ذاتی فائدے کی خاطر اسے ذبح کر کے اس کا گوشت پوست اپنے استعمال میں لائے۔ وحی الٰہی تو وحدت انسان کا تصور پیش کرتی ہے۔ لیکن اس وحدت کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انسان کو چار ذاتوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اور یہ لوگ وحدت انسان کی بجائے وحدت حیات کا تصور پیش کرتے ہیں۔ موذی جانوروں کو دکھ نہ دینے کا نظریہ چونکہ غیر فطری ہے لہٰذا ان لوگوں نے اس نظریہ میں خاصی لچک پیدا کر لی۔ اور بعض دفعہ ایسے جانوروں کی کثرت کے عذاب سے بھی دو چار ہوئے۔ رہا ان کا یہ اعتراض کہ اسلام مسلمانوں کو بے زبان جانوروں کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مار ڈالنے کا حکم کیوں دیتا ہے تو اس کا نقلی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو چیز بھی پیدا کی ہے۔ انسان کے فائدہ کے لیے پید اکی ہے اور انسان شریعت کے قوانین کے تحت ان چیزوں سے انتفاع کا حق رکھتا ہے اور یہی بات اس آیت سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ جو کچھ چاہے حکم دیتا ہے اور عقلی جواب یہ ہے کہ روح اور جسم کے انفصال کے وقت ہر جاندار کو بہرحال تکلیف پہنچتی ہے۔ ایک جاندار جو طبعی موت مرتا ہے وہ بوڑھا ہو کر اور بیماری کے دکھ سہہ سہہ کر مرتا ہے اور ذبح یا شکار کی صورت میں غالباً اس سے کم عرصہ کے لیے تکلیف پہنچتی ہے۔