ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحجرات (49) — آیت 14

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾
بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو گے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ بدویوں نے کہا: ”ہم ایمان لے آئے [23] ہیں“ آپ ان سے کہئے: ”تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے اور ابھی تک ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال [24] سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ اللہ یقیناً بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
[23] بدوی منافق قبائل کا اسلام کیسا تھا؟
یہ بدوی وہی لوگ تھے جو قبیلہ غفار، مزنیہ، جہینہ، اسلم اور اشجع سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے نفاق کی وجہ سے غزوہ حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے۔ تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے واپس آئے تو حیلے بہانے تراش کر اپنے لئے استغفار کی التجا کر رہے تھے۔ ان کا ذکر سورۃ احزاب کی آیت نمبر 11 تا 16 میں گزر چکا ہے۔ یہ لوگ کلمہ شہادتین پڑھ کر مسلمان تو ہو گئے تھے اور ارکان اسلام بھی بجا لاتے تھے۔ مگر ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوا تھا۔ انہیں آسان اور میٹھا میٹھا اسلام تو گوارا تھا لیکن وہ اس کے لئے کوئی مالی یا جانی قربانی پیش کرنے یا مشکلات برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔
اسلام اور ایمان میں فرق :۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور اسلام اور چیز ہے۔ حدیث جبریل سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ جب جبریلؑ نے آپ سے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں اور رسولوں کا یقین رکھے اور اس بات کا بھی کہ مر کر دوبارہ زندہ ہوناہے“ اور جب جبریل نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تو صرف اللہ کی عبادت کرے اور اس کا شریک نہ بنائے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے“ [بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تعلق دل کے افعال سے ہے اور اسلام کا ظاہری اعمال سے۔ یہ ان میں فرق کا پہلو ہے اور مماثلت کا پہلو یہ ہے کہ اگر ارکان اسلام کو باقاعدہ اور خلوص نیت سے ادا کیا جائے تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایمان میں اضافہ سے ظاہری اعمال میں حسن پیدا ہوتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک دوسرے کے مؤید اور لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔ منافقوں میں کمی یہ ہوتی ہے کہ ان کے اعمال میں نہ خلوص ہوتا ہے اور نہ حسن عمل لہٰذا ان کا ایمان شہادتین کے اقرار سے آگے بڑھتا ہی نہیں یعنی ایمان یا یقین ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوتا۔ اسی بات کو اللہ نے ایمان نہ لانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
[24] یعنی اب بھی اگر تم اپنا رویہ درست کر لو اور دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے لگو تو اللہ تمہارے سابقہ اعمال کا اجر تمہیں دے دے گا۔ اس میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اور تمہاری سابقہ خطائیں بھی معاف فرما دے گا۔