بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہو گے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔
En
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی
En
27۔ بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب [41] دکھایا تھا جو ایک حقیقت تھا کہ تم انشاء اللہ مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے اور اس وقت تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے اور تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جسے [42] تم نہیں جانتے تھے لہذا اس فتح [43] سے پہلے اس نے ایک قریبی فتح (خیبر) تمہیں عطا فرما دی۔
[41] عمرہ کے خواب کی حقیقت :۔
کافر یا منافقین تو درکنار خود بعض مسلمانوں کو بھی اس بات میں تردد تھا کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے۔ پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ ہمیں عمرہ سے روک دیا گیا ہے۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو منظور فرما رہے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرؓ کو دے دیا تھا کہ: ”میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ عمرہ اسی سال ہو گا“ (یعنی خواب میں وقت کی تعیین نہیں کی گئی تھی) اور دوسرا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ پیغمبر کا خواب فی الواقع سچا تھا اور ہم نے ہی دکھایا تھا وہ ضرور پورا ہو گا۔ تم یقیناً امن و امان کے ساتھ حرم میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرو گے۔ تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے۔ یہاں پہلے سر منڈانے کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سر منڈانا، بال کتروانے سے افضل ہے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ سے اگلے سال مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا اور یہ سب باتیں پوری ہوئیں۔
ایفائے عہد کی مثال :۔
از روئے معاہدہ حدیبیہ طے یہ ہوا تھا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لئے آئیں اور تین دن کے اندر اندر عمرہ کر کے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔ اور جب مسلمان آ گئے تو قریش مکہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ مسلمان ان کی نظروں کے سامنے بلاتکلف کعبہ میں داخل ہو کر عمرہ کے ارکان آزادی سے بجا لا سکیں۔ لہٰذا انہوں نے صرف حرم کعبہ کو خالی کرنے کے بجائے اس شہر کو ہی خالی کر دیا اور خود آس پاس پہاڑیوں پر تین دن کے لئے جامقیم ہوئے۔ اس دوران اگر مسلمان چاہتے تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کر سکتے تھے۔ مگر مسلمان ایفائے عہد میں اس قسم کی موقع شناسی کو بد ترین جرم تصور کرتے تھے۔ لہٰذا کسی کو بھی ایسا خیال تک نہ آیا اور تین دن کی طے شدہ مدت کے بعد مسلمان عمرہ کر کے واپس چلے گئے۔
عمرہ قضا کو کس لحاظ سے عمرہ قضا کہا جاتا ہے؟
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حدیبیہ میں چونکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ لہٰذا اس عمرہ کی قضا لازم تھی۔ جو انہوں نے اگلے سال ادا کی۔ اور مغالطہ غالباً لفظ قضا سے ہوا۔ حالانکہ یہاں قضا اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ عمرہ جس کے متعلق معاہدہ حدیبیہ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ اگلے سال آ کر کریں گے جس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے سال کوئی ایسا اعلان نہیں فرمایا کہ جو لوگ پچھلے سال عمرہ سے روک دیئے گئے تھے وہ عمرہ کے لئے تیار ہو جائیں اور مسلمان بھی جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے اس معاملہ میں آزاد تھے۔ جو آسکتے تھے وہ آگئے اور جو نہ آسکے وہ نہیں آئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قضا اس پر لازم ہے جو عورت سے صحبت کر کے حج توڑے، اور جسے کوئی عذر لاحق ہو جائے، دشمن روک دے یا اور کچھ بیماری وغیرہ کا عذر ہو تو وہ اپنا احرام کھول دے اور قضا نہ دے۔ اور اگر اس کے ساتھ قربانی ہو اور اسے حرم میں نہ بھیج سکے تو وہیں ذبح کر دے اور اگر حرم تک بھیج سکتا ہے تو جب تک قربانی وہاں نہ پہنچ جائے، وہ احرام نہیں کھول سکتا اور امام مالک وغیرہ نے کہا کہ جب وہ رک جائے تو جہاں کہیں چاہے وہیں قربانی ذبح کر دے اور سر منڈا لے اور اس پر قضا لازم نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کیں اور سر منڈائے اس سے پہلے کہ وہ طواف کریں اور قربانی بیت اللہ کو پہنچے۔ پھر کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ آپ نے ان میں سے کسی کو قضا کا حکم دیا ہو یا دہرانے کو کہا ہو۔ اور حدیبیہ حرم کی حد سے باہر ہے۔ [بخاری۔ کتاب المناسک۔ ابواب المحصر۔ باب من قال لیس علی المحصر بدل] [42] یعنی یہ کہ یہ عمرہ اگلے سال ہو گا۔ اس سال نہیں ہو گا۔ [43] یعنی یہ فتح خیبر تمہاری حدیبیہ کے مقام پر پیش آنے والی پریشانیوں پر صبر و برداشت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے صلہ کے طور پر تمہیں دی جا رہی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔