ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفتح (48) — آیت 26

اِذۡ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الۡجَاہِلِیَّۃِ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَلۡزَمَہُمۡ کَلِمَۃَ التَّقۡوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۲۶﴾
جب ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی تو اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اتار دی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے لائق تھے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے
En
جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا اور وه اس کے اہل اور زیاده مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ جب کفار مکہ نے (صلح حدیبیہ کے موقعہ پر) اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی عصبیت [39] کی ٹھان لی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں تقویٰ کی بات کا پابند رکھا اور وہی اس کے زیادہ حقدار [40] اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
[39] قریش کی جاہلانہ حمیت :۔
قریش کی اس عصبیت کے بھی دو پہلو تھے ایک یہ کہ جن مسلمانوں نے جنگ بدر میں ہمارے عزیز و اقارب کو مار ڈالا ہے، ہم انہیں مکہ میں اپنے ہاں داخل ہونے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں اور دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہو جانے دیا تو عرب بھر میں یہ بات مشہور ہو جائے گی کہ قریش مکہ مسلمانوں سے دب گئے ہیں۔ یہ تھی جاہلی حمیّت جس کی پچ میں انہوں نے ایک ایسے دستور کی خلاف ورزی کر ڈالی جو ان میں معروف تھا اور وہ یہ تھا کہ کسی بھی حج، عمرہ اور طواف کرنے والے کو ان کاموں سے روکا نہیں جا سکتا۔ علاوہ ازیں وہ حرمت والے مہینہ میں بھی لڑائی کرنے پر آمادہ تھے۔
[40] وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرضیکہ ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں گے۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر انہیں صلح کے سمجھوتہ پر مائل کر دیا۔