یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی،اس حال میں کہ وہ اس سے روکے ہوئے تھے کہ اپنی جگہ تک پہنچیں۔ اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کر لے، اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، سزا دیتے، دردناک سزا ۔
En
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے
En
25۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں [35] کو ان کی قربان گاہ تک پہنچنے سے روکے رکھا۔ اور اگر (مکہ میں) کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے (اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ جنگ کی صورت میں) تم انہیں پامال کر دو گے [36]، پھر (ان کی وجہ سے) تمہیں نا دانستہ کوئی پشیمانی لاحق ہو گی (تو تمہیں لڑنے سے نہ روکا جاتا اور روکا اس لئے گیا) تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں [37] داخل کرے۔ اگر مومن ان سے الگ ہو گئے ہوتے تو ان (اہل مکہ) [38] میں سے جو کافر تھے انہیں ہم دردناک سزا دیتے۔
[35] یہ کل ستر اونٹ تھے جو صحابہ اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جب قریشی اس بات پر اڑ گئے کہ کسی قیمت پر مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے تو معاہدہ صلح کے بعد انہیں وہیں حدیبیہ کے مقام پر ذبح کر دیا گیا۔
[36] حدیبیہ میں جنگ نہ لڑنے کا ایک بہت اہم پہلو :۔
مکہ میں کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جو قریش مکہ کے مظالم کی وجہ سے اپنا اسلام چھپائے رکھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایسے ذرائع بھی موجود نہ تھے کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ چلے جاتے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی فی الواقع معذور تھے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ جنگ کی صورت میں ایسے معذور مسلمانوں کو بھی مجبوراً کافروں کی صفوں میں شامل ہونا پڑتا اور حملہ کی صورت میں انہیں یقیناً نقصان پہنچ سکتا تھا جس کی تمہیں خبر تک نہ ہوتی۔ پھر خبر لگ جانے پر تمہیں الگ افسوس ہوتا کہ کافر الگ انہیں طعنے دینے لگتے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں نے تمہارا بھی خیال تک نہ کیا۔
[37] صلح حدیبیہ کا اہل عرب پر تاثر :۔
جنگ روکنے اور بہرحال صلح کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قبائل عرب میں یہ تاثر عام پھیل گیا کہ مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں۔ اسی بات سے متاثر ہو کو صلح حدیبیہ کے بعد بے شمار لوگ علی وجہ البصیرت اسلام کو حق سمجھ کر اسلام لے آئے۔ ان میں دو نامور شخصیتیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ایک سیدنا خالدؓ بن ولید سیف اللہ اور دوسرے سیدنا عمرو بن عاص جنہوں نے بعد میں مصر کو فتح کیا۔ [38] البتہ اگر مکہ میں معذور مسلمان موجود نہ ہوتے یا انہیں الگ کر لینے کی کوئی صورت نکل آتی تو پھر یقیناً صلح کے بجائے جنگ ہی بہتر تھی۔ اس صورت میں ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں بری طرح پٹوا دیتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔