ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 38

ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ ﴿٪۳۸﴾
سنو! تم وہ لوگ ہو کہ تم بلائے جاتے ہو، تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو،توتم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ ہی بے پروا ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمھاری جگہ تمھارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمھاری طرح نہیں ہوں گے۔ En
دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو۔ تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔ اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے
En
خبردار! تم وه لوگ ہو کہ اللہ کی راه میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وه تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وه تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو ﻻئے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ سنو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے [43]، پھر تم میں سے کوئی بخل کرنے لگتا ہے حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بے نیاز ہے اور تم ہی اس کے محتاج ہو اور اگر تم نہ مانو گے تو اللہ تمہاری جگہ (دوسرے لوگ) لے آئے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔
[43] دوسروں سے مراد اہل فارس ہیں :۔
اللہ اگر تمہیں جہاد میں یا دوسرے نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی وہ تمہیں اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا اور آخرت میں تو ایک ایک کا ہزار ہزار ملے گا اور اگر تم بخل کرو گے اور جہاد کی ضرورتوں پر خرچ نہ کرو گے تو اس کا سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ اور کافروں کے سامنے تمہیں ذلیل و رسوا ہونا پڑے گا۔ اللہ کے نافرمان الگ بنو گے۔ اللہ کو اپنے لئے تمہارے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو بے نیاز ہے اور محتاج تم ہی ہو۔ اور اگر تم جان و مال کے خرچ کرنے میں بخل کرنے سے کام لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئے گا جو جان اور مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں بخیل نہ ہوں گے۔ اللہ کو تو بہرحال اپنے دین کو سربلند کرنا ہے وہ اگر تمہارے ہاتھوں ہو جائے تو اسے اپنے لئے غنیمت سمجھو۔ اور دوسرے لوگوں سے مراد اہل فارس ہیں چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون لوگ ہیں۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی سوال کیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں سلمان فارسی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان پر رکھ کر فرمایا: اگر ایمان ثریا پر ہوتا تب بھی ان لوگوں میں سے کئی وہاں تک پہنچ جاتے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة جمعه]
اہل فارس کی شاندار دینی خدمات :۔
الحمدللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاد کے سلسلہ میں ایسی بے نظیر قربانیاں پیش کیں کہ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی۔ تاہم اہل فارس نے اسلام میں داخل ہو کر علم و ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور ایسی لاجواب دینی خدمات سرانجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے عین مطابق یہی لوگ تھے۔ جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پُر کر سکتے تھے۔ نامور محدثین اور ائمہ فقہا کی اکثریت اسی علاقہ سے تعلق رکھتی ہے۔