دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچے رہو، تو وہ تمھیں تمھارے اجر دے گا اور تم سے تمھارے اموال نہیں مانگے گا۔
En
دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا۔ اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا
واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا
En
36۔ یہ دنیا کی زندگی تو بس ایک کھیل [41] اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور تم سے تمہارے اموال کا مطالبہ نہیں کرے گا
[41] دنیا دار کے لئے دنیوی زندگی کھیل تماشا ہے :۔
یعنی یہ دنیا بس دلفریبیوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انسان زیادہ سے زیادہ مال و دولت اکٹھی کرنے کی ہوس رکھتا ہے اور مرتے دم ہی سب کچھ یہیں چھوڑ جاتا ہے۔ لہٰذا تمہیں آخرت کی کمائی کی فکر کرنی چاہئے جو دائمی اور پائیدار ہے۔ اور اس کے مقصد کے حصول کے لئے وہ تم سے تمہارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ تو خود غنی ہے اور ساری مخلوق پر خرچ کرتا ہے اسے تمہارے اموال کی کیا پروا یا ضرورت ہے۔ اگر کچھ تھوڑا سا مال تمہیں جہاد کی خاطر خرچ کرنے کو کہتا ہے تو اس میں تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن اپنی گرہ سے پیسہ خرچ کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی ملک فتح کرا دیئے۔ اور جتنا مسلمانوں نے خرچ کیا تھا اس سے سو سو گناہ زیادہ اموال غنیمت کی صورت میں ہاتھ لگ گیا۔ اموال غنیمت نے مسلمانوں کی معاشی تنگدستی کو آسودگی میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ فتح خیبر کے بعد مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کر دیئے جو انہوں نے مدینہ آنے پر شراکت کے طور پر انصار سے لئے تھے۔ پھر اس کے بعد مسلمانوں کی معاشی آسودگی بڑھتی ہی گئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں