ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ محمد (47) — آیت 20

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَۃٌ ۚ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ مُّحۡکَمَۃٌ وَّ ذُکِرَ فِیۡہَا الۡقِتَالُ ۙ رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یَّنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ نَظَرَ الۡمَغۡشِیِّ عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ؕ فَاَوۡلٰی لَہُمۡ ﴿ۚ۲۰﴾
اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو۔ پس ان کے لیے بہتر ہے۔ En
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے
En
اور جو لوگ ایمان ﻻئے وه کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وه آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو، پس بہت بہتر تھا ان کے لئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے کہ (جنگ سے متعلق) کیوں کوئی سورت نازل نہیں ہوتی؟ پھر جب ایسی محکم سورت نازل کی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا۔ تو آپ نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے وہ آپ کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے کسی شخص پر موت کا دورہ پڑ رہا ہو۔ ایسے [24] لوگوں کے لئے ہلاکت ہے۔
[24] جہاد کے حکم پر منافقوں کی حالت زار :۔
مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے جاؤ۔ اور اپنی تمام تر توجہ نمازوں کے قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے ذکر کی طرف مبذول کئے رہو۔ اس وقت کئی جرأت مند مسلمان یہ آرزو کیا کرتے تھے کہ کاش انہیں کافروں سے لڑنے کی اجازت مل جائے۔ اور ہم بھی ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لے سکیں۔ مدینہ میں پہنچنے کے ایک سال بعد مسلمانوں کو جنگ کی اجازت تو مل گئی۔ لیکن ابھی کوئی صریح حکم نازل نہیں ہوا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جہاد کے متعلق صریح احکام و ہدایات نازل ہوں پھر جب ایسی ہدایات بھی نازل ہو گئیں تو اس وقت بہت سے منافق بھی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو چکے تھے علاوہ ازیں کچھ ضعیف الاعتقاد اور کمزور مسلمان بھی تھے۔ جب جہاد کے احکام نازل ہوئے تو یک لخت ان پر موت کا خوف طاری ہو گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یوں دیکھنے لگے جیسے موت انہیں سامنے کھڑی نظر آرہی ہے۔ منافقوں کو تو بس ٹھنڈا ٹھنڈا اسلام قبول تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھ لیتے تھے اور روزے بھی رکھ لیتے تھے مگر جب جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو فوراً ہمت ہار بیٹھے۔ اور ہر شخص کو یہ معلوم ہو گیا کہ کون شخص ایمان کے حق میں کس قدر مخلص ہے؟