ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 3

مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳﴾
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقرر ہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔ En
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
En
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ ہم نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب چیزوں کو حقیقی مصلحت کی بنا پر اور ایک مقررہ مدت [2] تک کے لئے پیدا کیا ہے اور جو کافر ہیں وہ اس چیز سے اعراض کر جاتے ہیں جس سے انہیں ڈرایا [3] جاتا ہے۔
[2] اللہ کی حکمت سے معاد پر دلیل :۔
اس کارخانہ کائنات کے نتیجہ کے طور پر قیامت کے قائم ہونے پر عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اور اس کی تفسیر بھی پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔
[3] اللہ کی صفت عدل سے معاد پر دلیل :۔
قیامت کے قیام پر دوسری عقلی دلیل جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ یعنی انسان کو اس دنیا میں ایسے نہیں پیدا کیا گیا کہ جو کچھ وہ چاہے کرتا رہے اور اس سے کچھ بھی محاسبہ نہ ہو۔ اور جب انہیں یہ بات سمجھائی جاتی ہے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور منہ موڑ کر چل دیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض ان کا تکبر ہے۔ وہ اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیاں گوارا نہیں کرتے اور اس بات کو اپنی شان سے فروتر سمجھتے ہیں۔