اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لیے! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے( قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو! ایما ن لے آ، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔
En
اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ خدا کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا، تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد پھر زنده کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں، وه دونوں جناب باری میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعده حق ہے، وه جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں
En
17۔ اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا: ”تف ہو تم پر، تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں (زندہ کر کے زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ [26] سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ (اور ان میں سے کوئی بھی جی کر نہیں اٹھا) اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر اسے کہتے: ”تیرا ستیاناس۔ ہماری بات مان جا کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے“ تو وہ کہتا ہے: ”یہ تو بس پہلے لوگوں کی داستانیں [27] ہیں“
[26] یہ کوئی مخصوص کردار نہیں ہے۔ بلکہ مکہ میں ایسی مثالیں بھی موجود تھیں۔ بعض لوگ خود مشرک تھے اور ان کی اولاد مسلمان ہو گئی تھی اور بعض بڑے بوڑھے خود مسلمان تھے مگر ان کی نوجوان اور متکبر اولاد مشرک اور عقیدہ آخرت سے منکر تھی۔ اس آیت میں ''گفتہ آید در حدیث دیگراں'' کے مصداق ایسے ہی ایک گھرانے کا مکالمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مشرک بیٹے کی وہی پرانی اور گھسی پٹی دلیل ہے جو کہ آخرت کے منکر عموماً جواب میں کہا کرتے ہیں کہ ہزار سال سے لوگ مرتے رہے ہیں کوئی زندہ ہو کر واپس تو آیا نہیں۔ پھر تم مجھے یہ کیسی دھمکی دیتے ہو۔ اس سوال کا جواب یہاں چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اکثر مقامات پر قرآن میں اس کا جواب دیا جا چکا ہے۔
[27] اگر عقیدہ آخرت پرانا ہے تو اس کا جواب بھی تو اتنا ہی پرانا افسانہ ہے :۔
پہلے لوگ بھی کچھ ایسی باتیں کرتے رہے ہیں مگر آج تک چونکہ کوئی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا تو پھر ہم ان کی یہ بات کیسے درست تسلیم کر لیں۔ یہ تو محض پرانے افسانے ہی ہیں۔ مگر اسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ اگر یہ پرانے افسانے ہیں تو اس کا جواب بھی تو ویسا ہی پرانا افسانہ ہے جو آخرت کے منکر دیتے رہے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔