تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
پچھلی آیت میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی سعادت مند مومن اولاد کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر تھا، اس آیت میں ان کے مقابلے میں اس بدبخت اور نافرمان اولاد کا اور ان کے برے انجام کا ذکر ہے جس کے والدین مومن ہیں اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ ان کی اولاد ایمان لے آئے، مگر ان کی اولاد اس دعوت پر شدید اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے انھیں کہتی ہے، تم دونوں کے لیے {”اُف“} ہے، تم نے مجھے تنگ کر دیا۔ مکہ میں ایسے بہت سے خاندان تھے جن میں والدین ایمان لے آئے تھے مگر اولاد مشرک اور قیامت کی منکر تھی، یا اولاد ایمان لے آئی تھی اور والدین مشرک تھے۔
➋ { اَتَعِدٰنِنِيْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ:} کیا تم مجھے ڈراتے ہو کہ مجھے دوبارہ قبر سے زندہ کرکے نکالا جائے گا جب میں مٹی اور ہڈیوں کی صورت ہو چکا ہوں گا؟ حالانکہ مجھ سے پہلے صدیاں گزر چکیں، آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔ یہاں اس بدبخت کی اس بات کا جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اس کا جواب آ چکا ہے۔
➌ {وَ هُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ:} اور وہ دونوں اس کی اتنی گستاخانہ اور کفریہ بات کے شر سے پناہ مانگنے کے لیے فریاد کرتے ہیں کہ یا اللہ! ہمیں اس کے شر سے بچا اور اسے ہدایت دے۔
➍ { وَيْلَكَ اٰمِنْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:” وَيْلَكَ “} کا لفظ اگرچہ بددعا ہے، مگر بعض دفعہ اسے نہایت محبت و شفقت اور دردمندی کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے، جیسے {” ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ“} (تجھے گم کرنے والیاں گم پائیں)۔ یعنی ماں باپ اسے سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، تیرا ستیا ناس ہو، ایمان لے آ اور آخرت کا انکار نہ کر، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر وہ نہایت نفرت کے ساتھ انھیں جھڑک دیتا ہے۔
➎ { فَيَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۳۱)، مومنون (۸۳) اور نمل (۶۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے جیسے کہ عوفی بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کی صحت میں بھی کلام ہے اور جو قول نہایت کمزور ہے اس لیے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تو مسلمان ہو گئے تھے اور بہت اچھے اسلام والوں میں سے تھے بلکہ اپنے زمانے کے بہترین لوگوں میں سے تھے بعض اور مفسرین کا بھی یہ قول ہے لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ آیت عام ہے۔
نسائی کی روایت میں ہے کہ اس خطبے سے مقصود یزید کی طرف سے بیعت حاصل کرنا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان میں یہ بھی ہے کہ مروان اپنے قول میں جھوٹا ہے جس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے مجھے بخوبی معلوم ہے لیکن میں اس وقت اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتی لیکن ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ کو ملعون کہا ہے اور مروان اس کی پشت میں تھا، پس یہ اس اللہ تعالیٰ کی لعنت کا بقیہ ہے۔ یہ جہاں اپنے ماں باپ کی بےادبی کرتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی بےادبی سے بھی نہیں چوکتا، مرنے کے بعد کی زندگی کو جھٹلاتا ہے اور اپنے ماں باپ سے کہتا ہے کہ تم مجھے اس دوسری زندگی سے کیا ڈراتے ہو، مجھ سے پہلے سینکڑوں زمانے گزر گئے، لاکھوں کروڑوں انسان مرے، میں تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک بھی تو لوٹ کر خبر دینے نہیں آیا۔ ماں باپ بیچارے اس سے تنگ آ کر جناب باری سے اس کی ہدایت چاہتے ہیں، اس بارگاہ میں اپنی فریاد پہنچاتے ہیں اور پھر اس سے کہتے ہیں کہ بدنصیب ابھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی مسلمان بن جا لیکن یہ مغرور پھر جواب دیتا ہے کہ جسے تم ماننے کو کہتے ہو، میں تو اسے ایک دیرینہ قصہ سے زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جیسے گزشتہ جنات اور انسانوں کے زمرے میں داخل ہو گئے جنہوں نے خود اپنا نقصان بھی کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا۔
ابن عساکر کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ چار شخصوں پر اللہ عزوجل نے اپنے عرش پر سے لعنت کی ہے اور اس پر فرشتوں نے آمین کہی ہے جو کسی مسکین کو بہکائے اور کہے کہ آؤ تجھے کچھ دوں گا اور جب وہ آئے تو کہہ دے کہ میرے پاس تو کچھ نہیں اور جو «ماعون» سے کہے سب حاضر ہے حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو۔ اور وہ لوگ جو کسی کو اس کے اس سوال کے جواب میں فلاں کا مکان کون سا ہے؟ کسی دوسرے کا مکان بتا دیں اور وہ جو اپنے ماں باپ کو مارے یہاں تک کہ تنگ آ جائیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى حالَ الصالح البارِّ لوالديه؛ ذكر حالة العاقِّ، وأنَّها شرُّ الحالات، فقال: {والذي قال لوالديه}: إذ دعياه إلى الإيمان بالله واليوم الآخر، وخوَّفاه الجزاء، وهذا أعظم إحسان يصدُرُ من الوالدين لولدهما أن يَدْعُواه إلى ما فيه سعادتُه الأبديَّة وفلاحه السرمديُّ، فقابلهما بأقبح مقابلة، فقال: {أفٍّ لكُما}؛ أي: تبًّا لكما، ولما جئتما به.
ثم ذكر وجه استبعادِه وإنكاره لذلك، فقال: {أتعدانِني أنْ أُخْرَجَ}: من قبري إلى يوم القيامة {وقد خلتِ القرونُ من قبلي}: على التكذيب، وسلفوا على الكفر، وهم الأئمَّة المقتدى بهم لكلِّ كفورٍ وجهول ومعاندٍ. {وهما}؛ أي: والداه {يستغيثان الله}: عليه ويقولان له: {ويلكَ آمِنْ}؛ أي: يبذلان غاية جهدهما ويسعيان في هدايته أشدَّ السعي، حتى إنَّهما من حرصهما عليه إنهما يستغيثان الله له استغاثةَ الغريق، ويسألانه سؤال الشريق، ويعذلان ولدهما، ويتوجَّعان له، ويبيِّنان له الحقَّ، فيقولان: {إنَّ وعد الله حقٌّ}، ثم يقيمان عليه من الأدلَّة ما أمكنهما، وولدُهما لا يزداد إلا عتوًّا ونفوراً واستكباراً عن الحقِّ وقدحاً فيه، {فيقول ما هذا إلاَّ أساطير الأولينَ}؛ أي: إلا منقولٌ من كتب المتقدِّمين، ليس من عند الله، ولا أوحاه الله إلى رسوله، وكل أحدٍ يعلم أنَّ محمداً - صلى الله عليه وسلم - أميٌّ لا يكتب ولا يقرأ، ولا يتعلَّم من أحد؛ فمن أين يتعلَّمه، وأنَّى للخلق أن يأتوا بمثل هذا القرآن ولو كان بعضُهم لبعضٍ ظهيراً؟!