ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 13

وَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مِّنۡہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور ا س نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ En
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں
En
اور آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے۔ جو غور کریں یقیناً وه اس میں بہت سی نشانیاں پالیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سب کچھ ہی اس نے تمہارے لئے کام [17] پر لگا رکھا ہے۔ غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
[17] تمام اشیائے کائنات سے انسان کا استفادہ :۔
یعنی کائنات کی تمام چیزیں انسان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں اور ہر چیز کا انسان کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ مثلاً پانی، ہوا، زمین کی پیداوار اور اس میں مدفون خزانے، سمندر، پہاڑ، سورج، چاند، ستارے غرض ہر چیز انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ان کا اپنا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر چیزوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا یا اس کی زندگی مشکلات میں پڑ جاتی ہے اور وہ کئی طرح کے فوائد سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر انسان میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی گئی ہے کہ وہ اشیائے کائنات کے خواص معلوم کر کے نئے سے نئے فوائد حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ انسان کو تو ان اشیاء کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور انسان انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور یہ سب اللہ کا انسان پر فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنی مہربانی سے تمام اشیائے کائنات کو انسان کے کام پر لگا دیا ہے تو کیا اللہ کے ان احسانات کا یہی بدلہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے محسن پروردگار کا شکر بھی ادا نہ کرے؟ یا اس کی عبادت اور بندگی کرنے کی بجائے اس کے سامنے اکڑنا شروع کر دے؟