تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ:} یعنی جو بھی اپنے آپ کو ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ کرکے غور و فکر سے کام لے گا، وہ یہ دیکھ کر کہ یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کا شکر کرے گا اور اس اکیلے کی عبادت کرے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے ارشاد ہے «وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:53]، یعنی ’ تمہارے پاس جو نعمتیں ہیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اور ابھی بھی سختی کے وقت تم اسی کی طرف گڑگڑاتے ہو ‘۔
{ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ نام اس میں نام ہے اس کے ناموں میں سے، پس یہ سب اس کی جانب سے ہے کوئی نہیں جو اس سے چھینا چھپٹی یا جھگڑا کر سکے ہر ایک اس یقین پر ہے کہ وہ اسی طرح ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:255/11:]
{ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ”مخلوق کس چیز سے بنائی گئی ہے؟“ آپ نے فرمایا ”نور سے اور آگ سے اور اندھیرے سے اور مٹی سے اور کہا جاؤ! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اگر دیکھو تو ان سے بھی دریافت کر لو۔“ اس نے آپ سے بھی پوچھا: یہی جواب پایا، پھر فرمایا: ”واپس ان کے پاس جاؤ اور پوچھا کہ یہ سب کس چیز سے پیدا کئے گئے؟“، وہ لوٹا اور سوال کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی }۔ یہ اثر غریب ہے۔ اور ساتھ ہی منکر بھی ہے۔
غور و فکر کی عادت رکھنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت نشانیاں ہیں پھر فرماتا ہے کہ صبر و تحمل کی عادت ڈالو منکرین قیامت کی کڑوی کسیلی سن لیا کرو، مشرک اور اہل کتاب کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرو۔
یہ حکم شروع اسلام میں تھا لیکن بعد میں جہاد اور جلا وطنی کے احکام نازل ہوئے۔ اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، یعنی اللہ کی نعمتوں کے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
پھر فرمایا کہ ان سے تم چشم پوشی کرو، ان کے اعمال کی سزا خود ہم انہیں دیں گے، اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر نیکی بدی کی جزا سزا پاؤ گے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وسخَّر لكم ما في السمواتِ وما في الأرض جميعاً منه}؛ أي: من فضله وإحسانه، وهذا شامل لأجرام السماواتِ والأرض، ولما أودعَ الله فيهما من الشمس والقمر والكواكب الثَّوابت والسيَّارات وأنواع الحيوانات وأصناف الأشجار والثَّمرات وأجناس المعادن وغير ذلك ممَّا هو معدٌّ لمصالح بني آدم ومصالح ما هو من ضروراتِهِ؛ فهذا يوجب عليهم أن يبذلوا غايةَ جهدِهِم في شكر نعمته، وأن تغلغلَ أفكارهم في تدبُّر آياته وحكمِهِ، ولهذا قال: {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يتفكَّرون}. وجملة ذلك أنَّ خلقها وتدبيرها وتسخيرها دالٌّ على نفوذ مشيئة الله وكمال قدرتِهِ.
وما فيها من الإحكام والإتقان وبديع الصنعة وحسن الخِلْقة دالٌّ على كمال حكمته وعلمه.
وما فيها من السعة والعظمة والكثرة دالٌّ على سعة ملكه وسلطانه.
وما فيها من التخصيصات والأشياء المتضادَّات دليلٌ على أنه الفعَّال لما يريد.
وما فيها من المنافع والمصالح الدينيَّة والدنيويَّة دليلٌ على سعة رحمته وشمول فضلِهِ وإحسانِهِ وبديع لطفهِ وبرِّه، وكلُّ ذلك دالٌّ على أنّه وحدَه المألوه المعبودُ الذي لا تنبغي العبادة والذُّلُّ والمحبَّة إلا له، وأنَّ رسله صادقون فيما جاؤوا به. فهذه أدلةٌ عقليةٌ واضحةٌ لا تقبل ريباً ولا شكًّا.