ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الدخان (44) — آیت 10

فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ En
تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا
En
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ سو آپ اس دن کا انتظار کیجئے جب آسمان سے صریح [8] دھواں ظاہر ہو گا
[8] قریش پر قحط کا عذاب :۔
آیت نمبر 10 سے نمبر 16 تک تفسیر میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ بڑے زور شور اور یقین کے ساتھ ان آیات کی تفسیر درج ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں: عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی اور شرارتوں پر کمر باندھی تو آپ نے یوں بد دعا فرمائی اے اللہ! ان پر سیدنا یوسفؑ کے زمانہ کی طرح سات سال کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ آخر ان پر ایسا سخت قحط نازل ہوا کہ وہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور نوبت بایں جا رسید کہ ان میں سے اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف دیکھتا تو ایک دھواں سا دکھائی دیتا۔ اس وقت ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے، دعا کرو اللہ یہ قحط ختم کر دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اور مشرک بھی کہنے لگے: پروردگار! ہم پر یہ عذاب دور کر دے۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا۔ دیکھو جب یہ عذاب موقوف ہوا تو یہ لوگ پھر شرک کرنے لگیں گے۔ خیر آپ کی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب اٹھا لیا تو وہ پھر کفر شرک کرنے لگے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰي اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ میں بطشۃ سے مراد بدر کی سزا ہے۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ ان سے کبھی موقوف نہ ہو گا۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں ہیں جو گزر چکیں۔ لزام (بدر میں قیدیوں کی گرفتاری) روم کا دوبارہ غلبہ ’بطشۃ‘ (بدر کی ذلت آمیز شکست) چاند (کا پھٹنا) اور دخان (دھوئیں کا عذاب) [بخاري۔ كتاب التفسير]
دخان مبین سے کون سا دھواں مراد ہے؟
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت نمبر 10 میں مذکور دھوئیں سے مراد وہ دھواں لیتے ہیں جو قیامت کے قریب چھا جائے گا اور وہ قیامت کی ایک علامت ہو گا روایات کے مطابق یہ دھواں چالیس دن زمین کو محیط رہے گا۔ نیک آدمی پر اس کا اثر خفیف ہو گا جس سے انہیں زکام سا ہو جائے گا اور کافر و منافق کے لیے یہ دھواں سخت تکلیف دہ ثابت ہو گا۔ یہ دھواں شاید وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر ﴿ثُمَّ اسْتَوٰٓي اِلَي السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ میں ہوا ہے اور وہ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰي اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ سے مراد قیامت کا عذاب لیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب، تاہم ان آیات میں مذکور واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ ہی کی تفسیر زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔