تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کسی بات کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا تَذَاكَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَ نُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ يَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ وَ ثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِهِمْ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱] ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا، (جو یہ ہیں) دھواں، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کے مقام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدُّخَانَ أَوِ الدَّجَّالَ أَوِ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷] ”چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کر لو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھواں یا دجال یا دابہ یا تم میں سے کسی پر انفرادی عذاب یا سب پر اجتماعی عذاب۔“
ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس دخان سے مراد قیامت کے قریب نمودار ہونے والا دھواں ہے، جس کا ابھی انتظار ہے، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ہی صحیح ہے، کیونکہ آیات میں اُس دھوئیں کا ذکر ہے جو تھوڑا سا دور کیا جائے گا اور اس میں کفار کے لیے ایمان لانے کا موقع ہو گا، جب کہ قیامت کے قریب والی نشانیوں کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا» [الأنعام: ۱۵۸] ”جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بطورِ دلیل پیش فرمائی کہ بھلا قیامت کا عذاب بھی دور ہو سکتا ہے!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔
یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔
اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901]
اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف]
یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فارتقِبْ}؛ أي: انتظر فيهم العذابَ؛ فإنَّه قد قربَ وآنَ أوانه، {يومَ تأتي السماءُ بدخانٍ مبينٍ. يغشى الناسَ}؛ أي: يعمُّهم ذلك الدخان، ويقال لهم: {هذا عذابٌ أليمٌ}. واختلف المفسِّرون في المراد بهذا الدُّخان:
فقيل: إنَّه الدخان الذي يغشى الناسَ ويعمُّهم حين تقرب النار من المجرمين في يوم القيامة، وأنَّ الله توعَّدهم بعذاب يوم القيامةِ، وأمر نبيَّه أن ينتظر بهم ذلك اليوم. ويؤيد هذا المعنى أنَّ هذه الطريقة هي طريقةُ القرآن في توعُّد الكفَّار والتأنِّي بهم وترهيبهم بذلك اليوم وعذابه وتسلية الرسول والمؤمنين بالانتظار بمن آذاهم. ويؤيِّده أيضاً أنَّه قال في هذه الآية: {أنَّى لهم الذِّكْرى وقد جاءَهُم رسولٌ مبينٌ}، وهذا يُقال يومَ القيامةِ للكفار حين يطلبون الرجوعَ إلى الدُّنيا، فيقال: قد ذهب وقتُ الرجوع.
وقيل: إنَّ المراد بذلك ما أصاب كفارَ قريش حين امتنعوا من الإيمان واستَكْبروا على الحقِّ، فدعا عليهم النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -، فقال: «اللهمَّ أعِنِّي عليهم بسنينَ كَسِني يوسُفَ». فأرسل الله عليهم الجوع العظيم، حتى أكلوا الميتات والعظام، وصاروا يَرَوْنَ الذي بين السماء والأرض كهيئة الدخان، وليس به، وذلك من شدَّة الجوع، فيكون على هذا قولُه: {يوم تأتي السماءُ بدخانٍ}: أن ذلك بالنسبة إلى أبصارهم وما يشاهدون، وليس بدخانٍ حقيقةً، ولم يزالوا بهذه الحالة حتى اسْتَرْحموا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -، وسألوه أن يَدْعُوَ اللهَ لهم أن يكشِفَه الله عنهم، [فَدَعا رَبَّه]؛ فكشفه الله عنهم، وعلى هذا فيكون قوله: {إنَّا كاشِفو العذابِ قليلاً إنَّكم عائدونَ}: إخبارٌ بأنَّ الله سيصرِفُه عنهم ، وتوعُّدٌ لهم أن يعودوا إلى الاستكبار والتكذيب، وإخبارٌ بوقوعه، فوقع، وأنَّ الله سيعاقِبُهم بالبطشة الكبرى، قالوا: وهي وقعةُ بدرٍ. وفي هذا القول نظرٌ ظاهرٌ.
وقيل: إنَّ المراد بذلك أن ذلك من أشراط الساعة، وأنَّه يكون في آخرِ الزَّمان دخانٌ يأخذُ بأنفاس الناس ويصيبُ المؤمنين منه كهيئةِ الدُّخان.
والقول هو الأول. وفي الآية احتمالُ أنَّ المراد بقوله: {فارْتَقِبْ يوم تأتي السماءُ بدُخانٍ مبينٍ. يغشى الناسَ هذا عذابٌ أليمٌ. ربَّنا اكشِفْ عنَّا العذابَ إنَّا مؤمنونَ. أنَّى لهم الذِّكرى وقد جاءهُم رسولٌ مبينٌ. ثم تولَّوا عنه وقالوا معلمٌ مجنونٌ}: أنَّ هذا كلَّه [يكون] يوم القيامةِ، وأنَّ قولَه تعالى: {إنَّا كاشفو العذابِ قليلاً إنَّكم عائدونَ. يوم نَبْطِشُ البطشةَ الكُبرى إنَّا منتقمونَ}: أنَّ هذا ما وقع لقريش كما تقدم.
وإذا أنزلت هذه الآيات على هذين المعنيين؛ لم تجد في اللفظ ما يمنعُ من ذلك، بل تَجِدُها مطابقةً لهما أتمَّ المطابقة، وهذا الذي يظهر عندي ويترجَّح. والله أعلم.