ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزخرف (43) — آیت 80

اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾
یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔ En
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں
En
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ یا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے راز اور مشورے سن نہیں رہے۔ کیوں نہیں بلکہ ہمارے فرشتے [75] ان کے پاس ہی لکھتے رہتے ہیں۔
[75] ان کی خفیہ تدبیروں کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ جنہیں وہ اپنی خفیہ تدبیریں سمجھتے تھے وہ خفیہ نہیں ہوتی تھیں۔ ہم ان کے سب خفیہ مشورے، ان کی باہمی گفتگو ان کی سازشیں سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے فرشتے یہ سب کچھ ریکارڈ بھی کرتے جاتے ہیں۔ جو قیامت کے دن ہم ان کے سامنے لا رکھیں گے۔