38۔ حتیٰ کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی سے) کہے گا: کاش! میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب [38] کا بعد ہوتا، تو تو بہت برا ساتھی نکلا ہے۔
[38] یعنی آج تو اپنے اس برے ساتھی کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھ رہا ہے مگر قیامت کو جب ہمارے پاس حاضر ہو گا تب جا کر اسے معلوم ہو گا کہ وہ اس کا کیسا برا ساتھی تھا۔ پھر وہ حسرت اور غصہ سے اسے کہے گا: کاش! میرے اور تیرے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ ہوتا اور میں ایک لمحہ بھی تیری صحبت میں نہ گزارتا۔ آج تو کم از کم میری آنکھوں سے دور ہو جا۔ تو تو بہت ہی برا ساتھی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔