ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 9

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۚ فَاللّٰہُ ہُوَ الۡوَلِیُّ وَ ہُوَ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ٪﴿۹﴾
یا انھوں نے اس کے سوا اور کارساز بنارکھے ہیں؟ سو اللہ ہی اصل کارساز ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیزپر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ En
کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنالیے ہیں، (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مُردوں کو زنده کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟ حالانکہ کارساز تو صرف اللہ ہے اور وہی مردوں [8] کو زندہ کرے گا۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[8] آستانوں کے کارساز اصل میں مریدان با صفا ہی ہوتے ہیں :۔
آپ کسی کافر کے یا مشرک کے بت خانے یا آستانے پر تشریف لے جائیے اور دیکھئے کہ کارساز یا کام بنانے والے کون ہیں؟ کارساز تو وہ ہیں جو نذرانے دیتے اور نیازیں چڑھاتے ہیں انہیں کارسازوں یا مریدوں کے ذریعہ تو آستانوں کا کاروبار چمکتا ہے۔ اور آستانوں کے مجاوروں اور خادموں کی چاندی بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں تو عبادت گزار مریدان با صفا ہی ان کے کارساز ہوتے ہیں۔ رہی آخرت کی بات جس کی وجہ سے یہ ان کے کارساز بنے ہوئے ہیں تو یہ بات آج نہیں آخرت کو انہیں ٹھیک طرح معلوم ہو جائے گی۔ کہ یہ اولیاء بھی انہی کی طرح عاجز مخلوق اور اللہ کے دربار میں بالکل بے بس ہیں۔ کارساز تو وہ ہو سکتا ہے جو تصرف کے وسیع اختیارات رکھتا ہو اور وہ اللہ کی ذات ہی ہو سکتی ہے جو مردوں تک کو زندہ کر سکتی ہے اور ہر آن کرتی رہتی ہے۔ لہٰذا اگر کارساز بنانا ہے تو ایسی ذات کو بناؤ جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ تمہارے کام بھی آسکے۔