اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے، وہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔
En
اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں
En
10۔ اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ کرنا [9] اللہ کا کام ہے۔ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ کر چکا [10] اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
[9] اختلافات کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اصل دین چونکہ اللہ نے ہی بذریعہ وحی اپنے رسول اور بندوں کی طرف بھیجا تھا لہٰذا اگر بندے اس دین میں اختلاف کریں تو ان میں فیصلہ کا حق بھی اللہ ہی کو ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ میں نے جو دین بھیجا تھا وہ تو یہ تھا اور تم نے فلاں فلاں مقام پر غلط تاویلات کر کے باہم اختلاف کر لیا تھا۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر صاحب شریعت نبی ایمان لانے والوں کو ایک امت بناتا ہے۔ بعد میں لوگ اس میں اختلاف پیدا کر کے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ پھر جو بعد میں نبی آتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر وحی کر کے لوگوں کو اصل دین سے مطلع کر دیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کر دیتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اختلافات کا جو فیصلہ فرمائے گا وہ کھلی عدالت میں فرمائے گا۔ اختلاف کرنے والے لوگوں کی باقاعدہ پیشی ہو گی۔ پھر ان پر شہادتیں قائم ہوں گی اور انہیں بتایا جائے گا کہ اصل دین کیا تھا اور تم نے کیا کچھ حیلے اور مکاریاں کر کے اصل دین کا حلیہ بگاڑا تھا۔ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا تھا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام اختلافی مسائل میں اللہ کے کلام یعنی قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ پھر چونکہ قرآن رسول کی اطاعت کو واجب اور اپنی ہی اطاعت قرار دیتا ہے۔ لہٰذا کتاب اللہ اور سنت رسول دونوں کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ تفرقہ بازی اور اختلافات سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان کتاب و سنت کے سامنے کھلے دل سے سر تسلیم خم کر دے اور اس مطلب کی تائید سورۃ نساء کی آیت نمبر 59 اور 64 سے بھی ہو جاتی ہے۔ [10] یعنی میں ہمیشہ کے لیے اللہ پر توکل کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ پھر جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔