اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
En
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں
En
52۔ اور اسی طرح [72] ہم نے اپنے حکم سے ایک روح [73] آپ کی طرف وحی کی۔ اس سے پہلے آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان [74] کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنا دیا۔ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اس روشنی [75] سے راہ دکھا دیتے ہیں اور بلا شبہ آپ سیدھی راہ کی طرف [76] رہنمائی کر رہے ہیں۔
[72] آپ کو وحی کی تمام صورتوں میں وحی ہوئی :۔
اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان تمام قسموں کی وحی آپ کی طرف بھی کی ہے۔ القاء و الہام سے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی وہ سچا خواب تھا جو کچھ آپ نیند کی حالت میں دیکھتے وہ (بیداری میں) صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا۔ [بخاری۔ باب کیف کان بدء الوحی] ایسا ہی خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورۃ فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔ وحی کی یہ صورت آپ کو واقعہ معراج کے دوران پیش آئی جبکہ نمازیں فرض ہوئی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کئی بار ہم کلام ہوئے تھے اور اس کا ذکر سورۃ نجم کی آیات نمبر 9 اور 10 میں موجود ہے۔ تیسری صورت جبرئیلؑ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہونے کی ہے۔ اور قرآن سارے کا سارا اسی صورت میں نازل ہوا ہے۔ یہ صورت آپ کے لیے سخت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ پہلے آپ گھنٹیاں بجنے جیسی آوازیں سنتے تھے۔ یہ گویا ایک قسم کا انتباہ ہوتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ اس مادی دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواس ظاہری کام نہیں کرتے تھے۔ اور تمام تر توجہ وحی کی طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ اس شدت تکلیف سے آپ کو بعض دفعہ سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاتا تھا۔ نیز اس وقت آپ پر شدید بوجھ پڑتا تھا۔ چنانچہ سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ مجھ سے وحی لکھوا رہے تھے۔ آپ کی ران میری ران پر تھی۔ وحی آنے سے آپ کی ران اتنی بھاری ہو گئی کہ میں ڈرا کہ کہیں میری ران (بوجھ سے) ٹوٹ نہ جائے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورۃ النساء۔ باب ﴿لَایَسْتَوِیالْقٰعِدُوْنَ﴾] اگر آپ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی آنا شروع ہوتی تو اونٹنی بوجھ کے مارے بیٹھ جاتی تھی۔ اور چوتھی صورت سیدنا جبرئیل کے انسانی شکل میں آپ کے سامنے آ کر بات کرنے کی ہے۔ حدیث جبرئیل کے مطابق سیدنا جبرئیلؑ اس وقت ایک اجنبی انسان کی شکل میں آئے تھے۔ اور بسا اوقات جبرئیلؑ دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے۔ [73] روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔ [74] یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو اس بات کا خواب و خیال تک نہ تھا کہ آپ کو نبوت یا کتاب الٰہی ملنے والی ہے یا ملنی چاہئے۔ اسی طرح آپ ایمان کی تفصیلات سے واقف نہ تھے۔ صرف اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ ہی اکیلا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں شریک اور اس کا ہمسر نہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں! نیز یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اللہ کی کتابوں، نبیوں، فرشتوں اور روز آخرت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ [75] یعنی اس کتاب قرآن کو روشنی بنا دیا ہے اور اس روشنی میں ہدایت کی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اور جو لوگ قرآن کی اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم انہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
[76] ہدایت کے سرچشمے کون کون سے ہیں؟
ان دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے ذرائع تین ہیں اور اقسام دو ہیں۔ پہلی قسم کی ہدایت یہ ہے کہ کوئی شخص کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جائے۔ اور ایسی ہدایت خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ورنہ قرآن جیسی دل نشین اور پر تاثیر کتاب ہو اور اس کے مبلغ افضل الانبیاء ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ سب قریش مکہ ایمان لے آتے مگر آپ کی انتہائی تمنا اور سعی کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔ ہدایت کی دوسری قسم یہ ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے ہیں ان کی سیدھی راہ کے لیے رہنمائی کی جائے۔ اور یہ کام قرآن کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بھی۔ اور آپ کے بعد صحابہ اور علماء کرام کے ذریعہ سے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔