ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 38

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ En
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
En
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہمی مشورہ [56] سے طے پاتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
[56] مشورہ اور اس کے متعلقات :۔
مشورہ سے متعلق قابل ذکر امور یہ ہیں:
(1) مشورہ انفرادی امور میں کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔
(2) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔
(3) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے معاملہ میں صحابہ سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا جنگ احد کے متعلق یہ مشورہ کیا تھا کہ یہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے یعنی صرف مدافعت کی جائے یا کھلے میدان میں لڑی جائے۔
(4) مشورہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ کے سب پہلو سامنے آجائیں۔ اور جو پہلو اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کیا جائے۔ مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دلیل کی تلاش ہوتا ہے۔
(5) اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہر صاحب مشورہ کو اپنی رائے کے اظہار کی پوری آزادی دی جائے۔
(6) یہ تشخیص کرنا کہ اقرب الی الحق کون سا پہلو ہے؟ میر مجلس کا کام ہے۔ اس کا انحصار آراء کی کثرت اور قلت پر نہیں۔ بلکہ اگر ایک دو شخصوں کی رائے بھی اقرب الی الحق ہو تو اسے ہی اختیار کیا جائے گا۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اساریٰ بدر کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ دونوں ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو میں اسی کے مطابق عمل کرتا۔ یا جنگ احد کے متعلق آپ کو یہ مشورہ دینے والے کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے چند جوشیلے نوجوان مسلمان تھے لیکن آپ نے ان کی قلت کے باوجود انہی کی رائے کو اختیار کیا۔
(7) آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ [159:3] جب کسی فریق کے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو یا دونوں طرف دلائل یکساں ہوں تو اس وقت کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور ایسی صورت میں کثرت ہی بذات خود ایک دلیل بن جاتی ہے۔ اس طرح قطع نزاع تو ہو جاتا ہے مگر اس صورت میں وضوح حق ضروری نہیں۔ اور اس کی مثال بالکل قرعہ اندازی کی سی ہوتی ہے۔
اسلام میں خلیفہ کا انتخاب :۔
رہی یہ بات کہ آیا امیر کا انتخاب بھی مشورہ سے ہو گا یا یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ تو اکثر علماء کا خیال ہے یہ معاملہ مشورہ سے باہر ہے۔ اس پر پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے جبکہ مسلمانوں کی ریاست کا تصور تک نہ تھا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں کا اولین امیر خود نبی ہوتا ہے اور اس کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کسی ایک مخصوص طریق پر نہیں ہوا۔ پہلے خلیفہ کا انتخاب صرف مدینہ میں بعض صحابہ کے اجتماع میں ہوا۔ سیدنا عمر نے نام پیش کر کے بیعت کی۔ پھر سب نے بیعت کر لی۔ دوسرے خلیفہ سیدنا عمرؓ کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے نامزد کیا۔ تیسرے خلیفہ سیدنا عثمانؓ کو ایک چھ رکنی کمیٹی نے منتخب کیا اور چوتھے خلیفہ کو سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں نے زبردستی نامزد کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے۔ خلیفہ یا امیر المؤمنین کا سب مسلمانوں کے مشورہ کے تحت منتخب ہونا ضروری نہیں۔ مسلمانوں کا امیر جس راستے سے آئے اگر ان کو کتاب و سنت کے مطابق چلاتا ہے تو وہ ان کا فی الواقع امیر ہے، ورنہ نہیں۔ [مزيد تفصيلات كے ليے ميري تصنيف خلافت و جمهوريت ملاحظه فرمائيے]