یہ ہے وہ چیز جس کی خوش خبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اورانھوں نے نیک اعمال کیے۔ کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیںمانگتا مگر رشتہ داری کی وجہ سے دوستی۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔
En
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے
En
23۔ یہی وہ فضل ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو بشارت دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ آپ ان سے کہئے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا البتہ قرابت کی محبت [34] ضرور چاہتا ہوں۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں خوبی [35] کا اضافہ کر دیں گے بلا شبہ اللہ معاف کرنے والا اور قدر دان ہے۔
[34] ﴿الا المودّة فى القربيٰ﴾ کے مختلف مفہوم :۔
اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور وہ یہ ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ:﴿الَّاالْمَوَدَّةَفِيالْقُرْبٰي﴾ کا کیا مطلب ہے؟ سعید بن جبیرؓ نے (جھٹ) کہہ دیا کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے: تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے) تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔ (اور مجھے ایذائیں دینا چھوڑ دو) [بخاري۔ كتاب التفسير] اس کی دوسری تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں ﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد قرب یا تقرب ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس کام پر اس بات کے سوا کوئی اجر نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ کے قرب کی محبت پیدا ہو جائے۔ یعنی تم ٹھیک ہو جاؤ اور اللہ سے محبت کرنے لگو۔ بس یہی میرا اجر ہے۔ تیسرا گروہ اس آیت میں ﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد اقارب لیتا ہے۔ پھر ایک فریق تو اس محبت کو بنی عبد المطلب سے محبت مراد لیتا ہے۔ اور دوسرا سیدنا فاطمۃ الزھراؓ سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد سے۔ یہ تفسیر درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔
﴿مودّة فى القربيٰ﴾ سے شیعہ حضرات کا استدلال اور اس کا جواب :۔
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری صرف بنو عبد المطلب سے ہی نہیں تھی۔ بلکہ تقریباً قریش کے سب قبیلوں سے تھی اور بنی عبد المطلب میں سے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھے اور کچھ سخت دشمن بھی تھے۔ اور ابو لہب کی آپ سے دشمنی تو سب ہی جانتے ہیں۔ یہی حال قریش کے باقی قبیلوں کا تھا۔ لہٰذا اس تخصیص کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ 2۔﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد سیدہ فاطمہ اور سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد لینا اس لحاظ سے غلط ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ اور سیدہ فاطمہؓ کا نکاح ہی مدینہ جانے کے بعد ہوا تھا۔ 3۔ اور اس تفسیر کے غلط ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا مطالبہ کرنا کہ میں تم سے اس تبلیغ کے کام کا اس کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفیع کے مقابلہ میں یہ مطالبہ انتہائی گھٹیا اور فروتر ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ مطالبہ بھی کافروں سے ہو۔ کافروں سے بھلا اجرت کے مطالبہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اجرت تو اس سے طلب کی جا سکتی ہے جسے وہ کام پسند آئے اور کافر تو اس تبلیغ کے کام کی وجہ سے آپ کی جان کے لاگو بنے ہوئے تھے۔ ان سے بھلا کوئی ایسا مطالبہ کیا جا سکتا تھا؟ البتہ یہ واضح رہے کہ آپ کے اہل بیت ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ کی بیٹیوں اور دوسرے تمام اقارب سے محبت رکھنا جن میں سیدہ فاطمہؓ، سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم اور حقوق شناسی کے لحاظ سے اہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور ان سے درجہ بدرجہ محبت رکھنا حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہی کا تقاضا ہے۔ اور ایسی محبت کا تقاضا مسلمانوں سے تو کیا جا سکتا ہے، کافروں سے نہیں جبکہ اس آیت میں روئے سخن کافروں سے ہے۔ [35] یعنی جو نیک بننا چاہتا ہے اللہ اسے اور زیادہ نیک بنا دیتا ہے۔ اس کے کام میں اگر کچھ کوتاہیاں رہ گئی ہوں تو انہیں معاف کر دیتا ہے اور جو کچھ بھی وہ نیک اعمال بجا لاتے ہیں ان کی قدر شناسی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں زیادہ اجر فرماتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔