ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 19

اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿٪۱۹﴾
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہی بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ En
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
En
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے واﻻ ہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان [29] ہے جسے (جتنا) چاہتا ہے رزق دیتا [30] ہے اور وہ طاقتور اور زبردست ہے۔
[29] لطیف کا مفہوم :۔
لطیف کا معنی عموماً مہربان کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا معنی اردو میں کسی ایک لفظ سے ادا نہیں ہو سکتا۔ اس کے مادہ لطف کے بنیادی معنی میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ (1) دقّت نظر، (2) نرمی، (مقاییس اللغہ) اور لطیف کے معنی میں کبھی صرف ایک ہی بات یعنی دقت نظر یا باریک بینی یا راز یا چھوٹی چھوٹی جزئیات تک سے آگاہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘ وَهُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ وَهُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ [104:6] میں ہے۔ اور کبھی دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے اس مقام پر دونوں چیزیں موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی اور رتی رتی تکالیف کا علم اور اس کی خبر بھی رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی ان کا ازالہ بھی کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی حاجات اور ضروریات کا خیال رکھتا ہے پھر از راہ مہربانی انہیں پورا بھی کرتا رہتا ہے۔
[30] یعنی اللہ تعالیٰ کا لطف تو عام ہے جو بندوں کو یکساں پہنچ رہا ہے۔ لیکن رزق میں معاملہ اس سے الگ ہے۔ وہ ہر ایک کو یکساں نہیں ملتا۔ بلکہ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی کو زیادہ دے دیتا ہے اور کسی کو کم یہ اس کی مشیئت پر منحصر ہے۔ البتہ ہر ایک کو دیتا ضرور ہے۔ جتنا رزق اس نے کسی کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ کوئی طاقت یا کوئی ہستی اس کی مقدار کو نہ بڑھا سکتی ہے اور نہ اس کا رزق کم کر سکتی یا روک سکتی ہے۔ کیونکہ وہ خود سب سے بڑھ کر طاقتور اور زبردست ہے۔