ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 53

سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾
عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میںاور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے اور کیا تیرا رب کافی نہیں اس بات کے لیے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ عنقریب ہم انہیں کائنات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور ان کے اپنے اندر [71] بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا پروردگار ہر چیز پر حاضر و ناظر [72] ہے
[71] آفاق و انفس کے دو مفہوم :۔
اس آیت کے دو مطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ آفاق سے مراد عرب کے قرب و جوار کے ممالک مراد لیے جائیں اور انفس سے عرب قوم اور بالخصوص قریش قوم مراد لی جائے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نسبی تعلق رکھتے تھے اس لحاظ سے اس آیت کا جو مطلب ہے وہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔ چند ہی سالوں میں قریشی سرداروں کو ذلت سے دوچار ہونا پڑا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کی زندگی ہی میں کفر و شرک کو عرب کی سرزمین سے دیس نکالا مل گیا اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کے دور میں پے در پے فتوحات کے نتیجہ میں عرب کے ارد گرد کے ملکوں میں اسلام کا جو بول بالا ہوا وہ ہر ایک نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یہ اللہ کی نشانیاں صرف ان معنوں میں نہ تھیں کہ مسلمان ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے اور وہ مفتوح قوموں کے جان و مال کے مالک بن گئے جیسا کہ اس دنیا میں عموماً ہوتا ہے بلکہ یہ ان معنوں میں اللہ کی نشانیاں تھیں کہ یہ فتوحات اپنے جلو میں ایک عظیم الشان مذہبی، اخلاقی، ذہنی و فکری، تہذیبی و سیاسی اور تمدنی و معاشی انقلاب بھی لا رہی تھی اور ان فتوحات کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچے انسان کے بہترین جوہر کھلتے اور بد ترین اوصاف مٹتے چلے گئے۔ اور دوسرا یہ کہ آفاقی آیات سے مراد کائنات میں ہر سو بکھرے ہوئے اللہ کے عجائبات مراد لیے جائیں اور آیات انفس سے مراد انسان کے اندر کی دنیا لی جائے۔ جنہیں بالترتیب عالم اکبر اور عالم اصغر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس کائنات میں اور انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی لا تعداد نشانیاں موجود ہیں۔ اور ان سب کا نہ انسان آج تک احاطہ کر سکا ہے اور نہ آئندہ کبھی کر سکے گا۔ جبکہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی نئی سے نئی نشانی انسان کے علم میں آ جاتی ہے اور آئندہ بھی آتی رہے گی۔ جو قرآن کے بیان کی صداقت پر گواہی دیتی رہے گی۔ نئے سے نئے عجائبات قدرت انسان کے علم میں آتے رہیں گے۔ خواہ ان کا تعلق انسان سے باہر کی دنیا سے ہو یا اس کے اندر کی دنیا سے۔ انسان کو کائنات اصغر کہنے کی بھی کئی وجوہ ہیں۔ جن میں ایک یہ ہے کہ کائنات میں موجود چیزوں کی خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ مثلاً زمین پر جو اشیاء پائی جاتی ہیں وہ یا جمادات سے تعلق رکھتی ہیں یا نباتات سے اور یا حیوانات سے۔ جسامت کے لحاظ سے انسان جمادی ہے۔ پھر یہ بڑھتا بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا نفس نباتی ہوا۔ پھر یہ حرکت بھی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نفس حیوانی ہوا۔ پھر اس سے بھی زیادہ کامل ہوا تو اسے نفس انسانی ملا۔ جس طرح کسی عرق کو ایک آتشہ، پھر دو آتشہ، پھر سہ آتشہ کر کے اسے انتہائی لطیف اور سریع التاثیر بنایا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مشت خاک کو کمال دیتے دیتے انسان بنا دیا۔ اور اسے ایسی قوائے انسانیہ عطا کی گئیں جن سے وہ امور کلی دریافت کرنے کے قابل بن گیا۔ اب انسان کے اندر جس جس قسم کی قوتیں اور قدرتیں رکھ دی گئی ہیں ان کا احاطہ کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ حالانکہ وہ اس کے اندر ہر وقت موجود ہیں اور موجود رہتی ہیں۔ پھر انسان کے اندر نصب شدہ مشینری کو دریافت کر کے انسان کئی طرح کی ایجادات معرض وجود میں لانے کے قابل ہو گیا۔ پھر اس کے نفس انسانی کا تعلق عالم ملکوت سے بھی ہے۔ اس طرح انسان کے اندر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لا انتہا قدرتیں اور عجائبات موجود ہیں جن کا اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
[72] اس جملہ کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب ہو گا کہ اگر یہ لوگ قرآن کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ کریں۔ اس کی حقانیت پر کیا تمہارے پروردگار کی گواہی کافی نہیں جو ہر جگہ موجود اور ہر چیز کو بچشم خود دیکھ رہا ہے؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو اپنے کرتوتوں سے رک جانے کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا پروردگار ان کی ہر ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے؟ اور تیسرا مطلب یہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کافر آپ کو کن کن طریقوں سے ستا رہے ہیں پھر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطمینان کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خود گواہ ہے اور وہ انہیں ان کی کرتوتوں کی سزا دیئے بغیر چھوڑے گا نہیں؟