بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، وہ ہم پر مخفی نہیں رہتے، تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یاجو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے؟ تم کرو جو چاہو، بے شک وہ اسے جو تم کر رہے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔
جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ (تو خیر) جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے
بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وه (کچھ) ہم سے مخفی نہیں، (بتلاؤ تو) جو آگ میں ڈاﻻ جائے وه اچھا ہے یا وه جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ وه تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے
40۔ بلا شبہ جو لوگ ہماری آیات سے غلط مفہوم [49] لیتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں۔ بھلا وہ شخص جو دوزخ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے گا؟ تم جو چاہتے ہو [50] کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے
[49] ﴿الحاد﴾ کے معنی :۔
﴿يُلْحِدُوْنَ﴾ کا مادہ ﴿لحد﴾ ہے اور ﴿لحد﴾ بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ اور ﴿الحد﴾ بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہو جانا اور ﴿الحد السهم﴾ کے معنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا اور ﴿الحد عن الدين﴾ کے معنی دین میں طعن کرنا۔ (مفردات القرآن) اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے (ف ق۔ ل 189) جیسے اللہ کی ذات و صفات میں شک کرنا یا اس کے غلط معنی لینا یا معجزات سے انکار کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَذَرُواالَّذِیْنَیُلْحِدُوْنَفِیْۤاَسْمَآىٕهٖ﴾ یعنی جو لوگ اللہ کے ناموں (صفات) میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ الحاد کا تعلق اللہ کی صفات سے۔
ملحدین کے کون کون سے فرقے ہیں؟
اس لحاظ سے اس مقام پر اللہ کی آیات سے مراد اللہ کی صفات بیان کرنے والی آیات ہو گا اس کی مثال جیسے اللہ کی تقدیر سے تعلق رکھنے والی آیات میں الحاد کی بنا پر قدریہ اور جبریہ دو فرقے وجود میں آگئے۔ خوارج نے بھی اللہ کے حکم ہونے سے مراد یہ لی کہ اللہ کے علاوہ نہ اللہ کا قرآن حکم بن سکتا ہے اور نہ ہی انسان حکم بن سکتا ہے۔ معتزلہ نے اللہ کی صفات کو اللہ کی ذات سے جدا کر کے اللہ کی صفات کو حادث قرار دیا اور مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ اٹھا کھڑا کیا۔ علاوہ ازیں جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں سب ہی اللہ کی صفات میں الحاد کر کے اس سے اپنا مفید مطلب مفہوم کشید کر لیتے ہیں۔ ایسے ملحدین جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں سب اللہ کی نظر میں ہیں۔ اور وہ اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ [50] انداز بیان میں سخت دھمکی پائی جاتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو کہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی آیات میں الحاد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔