تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا:} یہ پہلی شدید وعید ہے جو یہاں آیاتِ الٰہی میں ٹیڑھا چلنے والوں کے لیے آئی ہے کہ یہ لوگ ہم پر مخفی نہیں ہیں، بلکہ ہر لمحے ہماری نگاہ میں ہیں اور ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ ہم اگر ان کے عذاب میں تاخیر کر رہے ہیں اور انھیں مہلت دے رہے ہیں تو اس لیے کہ جلدی تو وہ کرے جسے خطرہ ہو کہ مجرم رو پوش ہو جائے گا اور قابو سے نکل جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہم انھیں اس الحاد کی سزا ضرور دیں گے۔
➌ { اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْۤ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ:} یہ دوسری دھمکی ہے کہ آیاتِ الٰہی کا مطلب توڑنے مروڑنے والے اور ان کے بارے میں ٹیڑھے چلنے والے آگ میں پھینکے جائیں گے اور آیاتِ الٰہی میں الحاد سے اجتناب کرنے والے قیامت کے دن امن کی حالت میں آئیں گے۔ تو بتاؤ، جو آگ میں پھینکا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا؟
➍ {اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ …:} یہ تیسری دھمکی ہے، ”کرو جو چاہو“ کا مطلب اپنی مرضی کرنے کی اجازت دینا نہیں بلکہ ڈانٹ ہے کہ اس مہلت میں تم جو چاہو کر لو، پھر اس کی سزا کے لیے ہم جو چاہیں گے کریں گے۔ تمھارے ہر عمل کو ہم خوب دیکھ رہے ہیں، یہ خیال نہ کرنا کہ تم اپنے کسی عملِ بد کی سزا سے اس لیے بچ جاؤ گے کہ وہ ہماری نگاہ سے اوجھل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی عظیم فرماں روا اپنے کچھ غلاموں پر ناراض ہو کر شدید غصے سے کہے، جو چاہو کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[50] انداز بیان میں سخت دھمکی پائی جاتی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو کہے کہ جو کچھ تم کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی آیات میں الحاد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کر دینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ‘۔
ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے مثل کسی کا کلام نہیں اس کے آگے پیچھے سے یعنی کسی طرف سے اس سے باطل مل نہیں سکتا، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے تمام تر احکام بہترین انجام والے ہیں، ’ تجھ سے جو کچھ تیرے زمانے کے کفار کہتے ہیں یہی تجھ سے اگلے نبیوں کو ان کی کافر امتوں نے کہا تھا۔ پس جیسے ان پیغمبروں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ جو بھی تیرے رب کی طرف رجوع کرے وہ اس کے لیے بڑی بخششوں والا ہے اور جو اپنے کفر و ضد پر اڑا رہے مخالفت حق اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اس پر وہ سخت درد ناک سزائیں کرنے والا ہے ‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو دنیا میں ایک متنفس جی نہیں سکتا تھا اور اگر اس کی پکڑ دکڑ عذاب سزا نہ ہوتی تو ہر شخص مطمئن ہو کر ٹیک لگا کر بے خوف ہو جاتا }۔۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل و ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الإلحادُ في آيات الله: الميلُ بها عن الصواب بأيِّ وجه كان: إمَّا بإنكارها وجحودِها وتكذيبِ مَنْ جاء بها، وإمَّا بتحريفِها وتصريفِها عن معناها الحقيقيِّ وإثباتِ معانٍ ما أرادها الله منها، فتوعَّد تعالى مَنْ ألحد فيها بأنَّه لا يخفى عليه، بل هو مطَّلع على ظاهره وباطنه، وسيجازيه على إلحادِهِ بما كان يعملُ، ولهذا قال: {أفمن يُلْقَى في النار}: مثل الملحدِ بآيات الله {خيرٌ أم من يأتي آمناً يوم القيامةِ}: من عذاب الله، مستحقًّا لثوابه؟ من المعلوم أنَّ هذا خيرٌ.
لمَّا تبيَّن الحقُّ من الباطل والطريق المنجي من عذابِهِ من الطريق المهلِكِ؛ قال: {اعملوا ما شِئْتُم}: إن شئتُم؛ فاسلكوا طريق الرُّشدِ الموصلة إلى رضا ربِّكم وجنته، وإن شئتُم؛ فاسْلُكوا طريق الغيِّ المسخطة لربكم الموصلة إلى دار الشقاءِ. {إنَّه بما تعملون بصيرٌ}: يجازيكم بحسب أحوالِكم وأعمالكم؛ كقوله تعالى: {وقُل الحقُّ من ربِّكم فَمَن شاء فليؤمِن ومَن شاء فَلْيَكْفُر}.