ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 33

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾
اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماںبرداروں میں سے ہوں۔
اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں
اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اور اس شخص سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جس نے اللہ کی طرف [41] بلایا اور نیک عمل کئے اور کہا کہ میں (اللہ کا) فرمانبردار ہوں
[41] اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تبلیغ :۔
پچھلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ پر ایمان لانے کے بعد ساری زندگی اپنے اس قول و قرار پر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ اس آیت میں ان سے بھی اگلے درجہ کے ایمانداروں کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ جو صرف خود ہی احکام الٰہی کی بجا آوری پر جمے نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو اسی بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ سب سے پہلے خود عمل پیرا ہو کر اللہ کی فرمانبرداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دوسروں کو بلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا پہلے خود عمل پیرا ہونا پھر اس کے بعد اللہ کے دین کی طرف بلانا انتہائی بہترین عمل ہے۔