ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 25

وَ قَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾
اور ہم نے ان کے لیے کچھ ساتھی مقرر کر دیے تو انھوں نے ان کے لیے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے جو کچھ تھا، خوش نما بنا دیا اور ان پر بات ثابت ہو گئی، ان قوموں کے ساتھ ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزر چکی تھیں، بے شک وہ خسارہ اٹھانے والے تھے۔
اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا۔ بےشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشیں مقرر کر رکھے تھے، جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول ان امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وه زیاں کار ﺛابت ہوئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور ہم نے ان پر کچھ ایسے ہم نشین [31] مسلط کر دیئے جو آگے سے اور پیچھے سے ان کے سارے کام خوشنما کر کے دکھاتے تھے۔ چنانچہ ان پر بھی وہی حکم الٰہی ثابت ہو گیا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں پر ثابت ہو چکا تھا (یعنی یہ کہ) وہی خسارہ اٹھانے [32] والے ہیں۔
[31] ﴿قرين﴾ کا مفہوم نیز آدمی کا کردار اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے :۔
﴿قُرَنَاء ﴿قرين﴾ کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہم عمر ساتھی ہے جو بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو، ہمجولی اور اس لفظ کا استعمال برے معنوں میں ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کو بھول کر بد اعمالیوں میں لگے رہتے ہیں تو ان کے ہمجولی بھی انہی کی قسم کے شیطان سیرت ہوتے ہیں۔ جو اس کے ہر برے عمل پر اسے شاباش اور داد تحسین ہی دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً چوروں یا ڈاکوؤں کے گروہ میں سے اگر ایک شخص اپنی چوری یا ڈاکہ کی داستان سنائے گا تو دوسرے ساتھی اس کے اس کارنامہ کو بہادری پر محمول کر کے فخریہ انداز میں اس کی داستان سنیں سنائیں گے۔ ان میں سے کسی کو یہ خیال نہ آئے گا کہ وہ لوگوں کے اموال غصب کر کے کتنے بڑے کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ برے اور بد کردار آدمیوں کو ان جیسے ہی دوست اچھے لگتے ہیں اور کسی بد کردار آدمی کی کسی نیک فطرت آدمی سے دوستی ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر چل نہیں سکے گی۔ اسی طرح نیک لوگوں کے دوست بھی ہمیشہ نیک لوگ ہی ہوا کرتے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ نیک سیرت انسان سے کسی بد کردار کی دوستی کبھی نبھ نہیں سکتی۔ لہٰذا بعض آدمیوں کا یہ کہنا کہ فلاں آدمی خود تو اچھا تھا مگر اسے ساتھی برے مل گئے یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر وہ فی الواقع اچھا تھا تو دو ہی صورتیں ممکن ہیں یا تو وہ دوسروں کو بھی اچھا بنا لیتا اور یا پھر ان سے الگ ہو جاتا۔ اور اگر اس نے یہ دونوں کام نہیں کیے تو پھر وہ اچھا کیسے ہوا؟
[32] یعنی جو لوگ اپنے برے ساتھیوں کی باتوں پر لگ جاتے ہیں۔ اور ان کے بھرے میں آجاتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ خود ہی اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔