53۔ ہم نے موسیٰ کو ہدایت [69] عطا کی اور بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) کا وارث بنا دیا [70]۔
[69] یعنی سیدنا موسیٰؑ کو فرعون جیسے جابر اور ظالم حکمران کے پاس بھیجا۔ تو ساتھ ہی ساتھ ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے کہ اب آگے انہیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے تاآنکہ انہیں اور ان کی مظلوم قوم کو فرعون کی چیرہ دستیوں سے نجات دلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کریں۔
[70] کتاب کے وارثوں کی ذمہ داریاں :۔
فرعون کی غرقابی کے بعد موسیٰؑ کو جو کتاب تورات عطا فرمائی اس میں اہل عقل و خرد کے لئے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی بہت کچھ سامان موجود تھا اور دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بھی وہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی مہیا کرتی تھی۔ ہم نے اس عظیم الشان کتاب کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا تاکہ وہ دنیا میں ہدایت کے علمبردار بن کر اٹھیں۔ ان آیات میں دراصل مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے اور خوشخبری بھی۔ مسلمان اس وقت ایسے ہی حالات سے دوچار تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ وہ اپنے نبی اور مسلمانوں کو اسی حال میں نہیں چھوڑے گا بلکہ قدم قدم پر ان کی رہنمائی بھی فرمائے گا۔ تاآنکہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں پھر انہیں جو کتاب (قرآن) دی جا رہی ہے مسلمانوں کو ہی اس کا وارث بنایا جائے گا تاکہ وہ اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں اور تمام لوگوں کی ہدایت کا فریضہ سرانجام دیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔