ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 29

یٰقَوۡمِ لَکُمُ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ظٰہِرِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ فَمَنۡ یَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰہِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾
اے میری قوم ! آج تمھی کو بادشاہی حاصل ہے ، اس حال میں کہ (تم) اس سر زمین میں غالب ہو، پھر اللہ کے عذاب سے کون ہماری مدد کرے گا، اگر وہ ہم پر آگیا؟ فرعون نے کہا میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ En
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
En
اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ فرعون بوﻻ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ ”اے میری قوم! آج تمہاری ہی حکومت ہے اور ملک میں تم ہی غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب آجائے تو کون ہماری مدد [42] کرے گا؟“ فرعون کہنے لگا: ”میں تو تمہیں وہی کچھ دکھاتا ہوں جو خود دیکھ [43] رہا ہوں اور میں تمہیں وہی راہ دکھاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے“
[42] کیا تم اس کے قتل کی بات محض اس لئے کرتے ہو کہ آج تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور اگر تم ایسا کر بھی لو گے تو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ سچا ہوا اور تم پر اللہ کی طرف سے عذاب آگیا تو اس وقت تمہاری یہ حکومت کسی کام نہ آئے گی۔ اور سب تباہ ہو جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی اس نے اپنا ایمان ظاہر نہ کیا تھا۔ اور فرعون اور اس کے درباریوں سے غیر جانبدار رہ کر ناصحانہ قسم کی باتیں کر رہا تھا۔
[43] فرعون کے اس جملہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون اسے تا حال اپنا مخالف یا مومن نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے اپنا ناصح ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی لئے اس نے اس مرد مومن کو یہ جواب دیا کہ مجھے تو اسی بات میں بھلائی نظر آتی ہے کہ اس شخص کو قتل کر دینا ہی بہتر ہے اور میں اپنی سمجھ اور بصیرت کے مطابق جو حالات سامنے دیکھ رہا ہوں وہی تمہیں بتا رہا ہوں اور اسی میں تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔