ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 93

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾
اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنے والا ہو اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ En
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
En
اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

93۔ اور جو شخص کسی مومن کو دیدہ دانستہ قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب [128] اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے
[128] قتل خطا کے کفارے کی مختلف صورتیں اور توبہ کا طریقہ تو بیان کر دیا گیا مگر کسی مومن کا قتل عمدً انتہائی شدید جرم ہے جس کا اس دنیا میں کفارہ ممکن ہی نہیں۔ قتل ناحق کسی غیر مسلم کا ہو تو وہ بھی شدید جرم ہے پھر اگر مومن کا ہو تو مزید شدید جرم بن جاتا ہے۔ نیز جرم بیان کرنے کے بعد اللہ کا غضب اور اس کی لعنت کے الفاظ سے اس جرم کی شدت واضح ہو جاتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہے یا نہیں؟ تو اگرچہ اس میں علماء کا اختلاف موجود ہے تاہم سیدنا ابن عباسؓ اسی بات کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے۔
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے خطبہ حجۃ الوداع) میں فرمایا ”اللہ نے تم پر ایک دوسرے کے خون، مال اور آبرو اسی طرح حرام کر دی ہیں جس طرح تمہارے اس دن (یوم النحر) کی تمہارے اس شہر (مکہ) کی اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے۔“ نیز فرمایا کہ ”میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا۔“
[بخاری، کتاب الحدود۔ باب ظہر المومن حمی الافی حد او فی حق]
قتل ناحق اور قتل عمد:۔
سیدنا ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔“ میں نے کہا ”اے اللہ کے رسول! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور“ فرمایا ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔“
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا]
3۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہو گا۔ (1) حرم میں الحاد کرنے والا، (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی اور (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔“
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق]
4۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن قاتل کی پیشانی کے بال اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کے گلے کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے فریاد کرے گا کہ اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا یہاں تک کہ عرش کے قریب لے جائے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ابن عباسؓ کے سامنے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ بدلی گئی۔ پھر اس کی توبہ کیسے قبول ہو سکتی ہے؟“ [ترمذي، ابواب التفسير]
5۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخیر زمانہ میں نازل ہوئی (لہٰذا محکم ہے) اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ [بخاري، كتاب التفسير]