ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 58

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۵۸﴾
بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، یقینا اللہ تمھیں یہ بہت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ (مسلمانو!) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو لوگ امانتوں کے حقدار [89] ہیں انہیں یہ امانتیں ادا کر دو۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف [90] سے فیصلہ کرو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے
[89] اس جملہ کے بہت سے مطلب ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جس کسی نے تمہارے پاس کوئی امانت رکھی ہو اسی کو اس کی امانت ادا کر دو۔ زید کی امانت بکر کے حوالے نہ کرو۔ امانت کا دوسرا مطلب ذمہ دارانہ مناصب ہیں۔ یعنی حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب انہی کے حوالے کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں۔ نا اہل، بے ایمان بد دیانت اور راشی قسم کے لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ اس لحاظ سے یہ مسلمانوں سے اجتماعی خطاب ہے کیونکہ بد کار لوگوں کی حکومت سے ساری قوم کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ امانت کا تیسرا مطلب حقوق بھی ہیں یعنی تمہارے ذمہ جو حقوق ہیں خواہ اللہ کے ہوں یا بندوں کے، سب کے حقوق بجا لاؤ۔ کسی حکومت کے استحکام کی یہ پہلی بنیاد ہے اور انہی حقوق کی عدم ادائیگی سے فساد رونما ہوتا ہے۔ [90] حکومت کے استحکام کی دوسری بنیاد عدل و انصاف ہے لہٰذا کسی قوم سے دشمنی تمہارے عدل و انصاف پر اثر انداز نہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ یہود نے صرف اسلام دشمنی کی بنا پر مشرکوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ تم دینی لحاظ سے مسلمانوں سے بہتر ہو۔ حالانکہ مسلمانوں کی پاکیزہ سیرت اور مشرکوں کے کردار میں فرق اتنا واضح تھا جو دشمنوں کو بھی نظر آ رہا تھا اور خود یہود بھی اس حقیقت حال سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انصاف سے فیصلہ کرنا اور انصاف کی بات کہنا بہت بلند درجہ کا عمل ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے:
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصاف کرنے والے اللہ کے نزدیک ہوں گے، رحمٰن عز و جل کے دائیں نور کے منبروں میں ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ جو اپنے فیصلہ کے وقت اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔“ [مسلم، كتاب الامارة، باب فضيلة الامير العادل]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا اور یہ ایسا دن ہو گا جب اور کسی جگہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اس میں سر فہرست آپ نے امام عادل یعنی انصاف کرنے والے حاکم کا ذکر فرمایا۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے جوانی میں خوشدلی سے اللہ کی عبادت کی۔ تیسرے وہ شخص جس کا دل مسجد میں ہی اٹکا رہتا ہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر دوستی کی، اسی کی خاطر اکٹھے رہے اور آخر موت نے جدا کیا۔ پانچویں وہ شخص جسے کسی مالدار اور حسن و جمال والی عورت نے بد کاری کے لیے بلایا تو اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو کچھ دیا، بائیں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں۔
[بخاری، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوۃ]