یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۲۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھائو، مگر یہ کہ تمھاری آپس کی رضا مندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔
En
مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے
En
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل [48] طریقوں سے نہ کھاؤ۔ درست صورت یہ ہے کہ باہمی [49] رضا مندی سے آپس میں لین دین ہو اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ [50] بلا شبہ اللہ تم پر نہایت مہربان ہے
[48] باطل طریقے کون کون سے ہیں؟ باطل طریقوں سے مراد ہر وہ ذریعہ آمدنی ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً: 1۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، غبن وغیرہ۔
2۔ سود اور اس کی تمام شکلیں، خواہ یہ سود مفرد ہو، مرکب ہو، ڈسکاؤنٹ ہو، مارک اپ اور مارک ڈاؤن ہو یا خواہ یہ ذاتی قرضے کا سود ہو اور خواہ یہ ربا النسیۂ (مدت کے عوض سود) ہو یا ربا الفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ) ہو۔
3۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتا ہو۔ جیسے جوا، لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔
4۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے جن میں صرف ایک ہی عوض مقرر ہوتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔ (عوضین یہ ہے کہ مثلاً ایک کتاب کی قیمت سو روپے ہے تو کتاب کا عوض سو روپے اور سو روپے کا عوض کتاب) جیسے غوطہ خور سے ایک غوطہ کی قیمت مقرر کرنا، بیع ملامسہ، منابذہ۔ بچوں کے کھیل کہ جس چیز پر بچے کا نشانہ لگے وہ اتنی قیمت میں اس کی۔
5۔ ہر وہ لین دین جس میں کسی ایک فریق کا فائدہ یقینی ہو دوسرے کو خواہ فائدہ ہو یا نقصان جیسے سود اور ایسے تمام سودے اور معاملات جن میں یہ شرط پائی جاتی ہو۔
6۔ ایسے سودے جو محض تخمینہ سے طے کیے جائیں اور ان میں دھوکہ کا احتمال موجود ہو جیسے کسی ڈھیر کا بالمقطع سودا کرنا یا مال خرید کر قبضہ کیے بغیر آگے چلا دینا یا غیر موجود مال کا سودا کرنا اور باغات وغیرہ کے پیشگی سودے (ان میں بیع سلم اور بیع عرایا کی رخصت ہے جو چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہے اور غریبوں کی سہولت کے لیے جائز کی گئی ہے۔)
7۔ وہ بیع جس میں مشتری دھوکہ دینے کی کوشش کرے مثلاً عیب چھپانا، جانور کا دودھ روک کر بیچنا، ناپ تول میں کمی بیشی کر جانا، دوسرے کو پھنسانے کے لیے بولی چڑھانا وغیرہ۔
8۔ جو اشیاء حرام ہیں ان کی خرید و فروخت جیسے شراب کی سوداگری یا ان اشیاء کی جو شراب خانے میں استعمال ہوتی ہیں، مردار کا گوشت، تصویریں اور مجسمے، فحاشی پر مشتمل کتابیں اور تصویریں، کسی حرام کاروبار کے لیے دکان یا مکان کرایہ پر دینا، کاہن کی کمائی، فاحشہ کی کمائی، کتے کی قیمت وغیرہ۔
9۔ حکومت کے ذریعہ دوسروں کے مال بٹورنا مثلاً لین دین کے جھوٹے مقدمات اور رشوت وغیرہ یا حکومت کا لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان کو اپنی مرضی کے مطابق لین دین پر مجبور کرنا۔ جیسے حکومت کے محکمہ ہائے ایل ڈی اے، کے ڈی اے وغیرہ دوسرے لوگوں کی زمینیں ان کی رضا مندی کے بغیر حاصل (AQUIRE) کر لیتے ہیں۔
10۔ کتاب اللہ میں تحریف و تاویل اور غلط فتووں سے مال بٹورنا اور یہ کام بالخصوص علماء سے مختص ہے۔
اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”بائع اور مشتری صرف اسی حال میں جدا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے راضی ہوں۔“
[ترمذی، ابواب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں سودے کو پورا کرنے یا فسخ کرنے کا اس وقت تک اختیار رکھتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں سوائے بیع خیار کے“ (جس میں معین مدت کے اندر سودا فسخ کرنے کی شرط ہوتی ہے۔)
[بخاری، کتاب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا]
3۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے اللہ اس کے لیے دوزخ واجب کر دیتا ہے اور جنت اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔“ کسی نے آپ سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی بالکل معمولی قسم کی ہو؟ فرمایا ”اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“
[مسلم بحوالہ فقہ السنہ جلد 2 صفحہ 149]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عز و جل چار قسم کے آدمیوں سے دشمنی رکھتا ہے۔ ایک وہ جو قسمیں کھا کر سودا بازی کرتا ہو، دوسرے محتاج جو اکڑ باز ہو۔ تیسرے بوڑھے زانی سے اور چوتھے ظلم کرنے والے حاکم سے“
[نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب الفقیر المحتال]
5۔ سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور انہیں دردناک عذاب ہو گا۔“ میں نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ وہ تو نامراد ہو گئے اور خسارہ میں رہے۔“ فرمایا۔ ”ایک تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا۔ دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔“
[مسلم، کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم تنفیق السلعۃ بالحلف]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے تاجروں کے گروہ! سودے بازی میں بے ہودہ باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں لہٰذا تم ان کے ساتھ صدقہ بھی ملا لیا کرو۔“
[ترمذی، ابواب البیوع، باب ماجاء فی التجار۔ نسائی، کتاب البیوع باب الحلف الواجب]
7۔ ناپ تول میں کمی سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلا شبہ تم دو ایسے کاموں کے والی بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلے کی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔“
[ترمذی، کتاب البیوع، باب فی المکیال و المیزان]
8۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لے گئے وہاں ایک تولنے والا کوئی جنس تول رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا 'تول اور کچھ جھکتا تول۔
[نسائی، کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن]
9۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ یہود کو غارت کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچ ڈالا۔“
[بخاری، کتاب البیوع باب لایذاب شحم المیتۃ]
10۔ جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلا شبہ اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی سوداگری کو حرام کیا ہے۔“
[بخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام]
11۔ ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔“
[بخاری، کتاب البیوع، باب ثمن الکلب]
12۔ سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں بھی ایک آدمی ہوں۔ تم میرے سامنے جھگڑا لیے آتے ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی دلیل دوسرے فریق کی نسبت اچھی طرح بیان کرتا ہے اور میں جو سنتا ہوں اس پر فیصلہ کر دیتا ہوں۔ پھر اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا حق دلا دوں تو وہ ہرگز نہ لے۔ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں“ [بخاري، كتاب الحيل، باب بلاعنوان۔ بخاري، كتاب الاحكام، باب من قضي له من حق اخيه فلا يا خذه]
13۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”جو شخص تصویریں بناتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسے کہے گا کہ اب اس میں جان بھی ڈال اور وہ یہ کام کبھی نہ کر سکے گا۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب بيع التصاوير التى ليس فيها الروح]
14۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بازار میں غلہ لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔ [ابن ماجه، دارمي بحواله مشكوة، كتاب البيوع، باب الاحتكار، فصل ثاني]
15۔ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”جس شخص نے اپنی عیب دار چیز عیب بتائے بغیر بیچی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔“ [ابن ماجه بحواله مشكوة، كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع۔ فصل ثالث]
16۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”بائع اور مشتری دونوں جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ پھر اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔ اور وہ عیب وغیرہ چھپا گئے اور جھوٹ بولا تو ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب اذابين البيعان نيز باب مايمحق الكذب والكتمان فى البيع]
17۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) آپ کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”اے غلہ والے! یہ کیا؟“ وہ کہنے لگا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش ہو گئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو تو نے (اس نمدار غلے کو) ڈھیر کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔“ پھر فرمایا ”جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ [مسلم، كتاب الايمان، باب قول النبى من غشنا فليس منا]
18۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی اونٹنی یا بکری خریدے جس کا دودھ بڑھایا گیا ہو تو دودھ دوہنے کے بعد خریدنے والے کو دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔“ [مسلم، كتاب البيوع۔ باب حكم بيع المصراة]
19۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ اختیار تین دن تک ہے۔ [حواله ايضاً]
20۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ (کھیتی پکنے سے پہلے سود اچکا لینے) سے اور مزابنۃ (کھجور، انگور پکنے سے پہلے خشک کھجور یا انگور کا سودا چکا لینے) سے اور مخابرہ (زمین کو بٹائی پر دینا۔ جس کی بعد میں اجازت دے دی گئی) سے اور معاومہ (بیع سنین یعنی چند سالوں کی فصل کا پیشگی سودا چکا لینے) سے اور ثنیا (سودا چکاتے وقت چند درختوں یا کھیتی کا کچھ حصہ مستثنیٰ کر لینے) سے منع فرمایا اور بیع عرایا (چھوٹے پیمانے پر بیع مزابنۃ جس میں غریبوں کی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے) کی اجازت دی۔ [بخاري، كتاب المساقات، باب الرجل يكون له ممرٌّ او شرب فى الحائط، مسلم، كتاب البيوع۔ باب النهي عن المحاقلة] اور عرایا میں جو رخصت ہے وہ پانچ وسق (اندازاً بیس من) تک ہے۔ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم الرطب بالتمر الا فى العرايا]
21۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں لوگ حبل الحبلہ تک اونٹ کے گوشت کی سودا بازی کرتے اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی بیع سے منع فرما دیا۔ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الحبل الحبلة۔۔ بخاري كتاب البيوع، عنوان باب]
22۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے ادھار کی ادھار سے (یعنی دونوں طرف ادھار) بیع کرنے سے منع فرمایا [دار قطني بحواله مشكوة۔ كتاب البيوع۔ باب المنهي عنها من البيوع۔ فصل ثاني]
23۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے بیع الحصاۃ (کنکریاں پھینکنے کی بیع) اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب بيع الغر ر۔۔ مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع الحصاة والبيع الذى فيه غر ر]
24۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ایک ملامسہ اور دوسری منابذہ اور ملامسہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک بلا سوچے سمجھے دوسرے کا کپڑا چھوئے اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے۔ اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے (اور اس طرح یہ بیع لازم ہو جائے) [بخاري، كتاب البيوع، باب الملامسة و المنابذة۔۔ مسلم۔ كتاب البيوع۔ باب ابطال بيع الملامسته و المنابذة]
25۔ سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش (بائع کی طرف سے مقررہ لوگ جو خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر راغب کر سکیں۔ نیز چڑ ہی کی بولی) سے منع فرمایا۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب النجش]
26۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے لاچار آدمی کی سودا بازی سے فائدہ اٹھانے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی سودا بازی سے منع فرمایا۔ [ابو داؤد، كتاب البيوع، باب ماجاء فى بيع المضطر]
27۔ سیدنا عمرو بن شعیبص اپنے باپ سے اپنے دادے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بیع عربان (بیعانہ کی ضبطی والے سودے) سے منع فرمایا۔ [مؤطا، كتاب البيوع، باب بيع العربان]
28۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے ایک یا دو یا تین سال کے لیے پیشگی سودے کر لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی کسی چیز کا پیشگی سودا کرے تو اسے چاہیے کہ مقررہ ناپ میں، مقررہ وزن میں اور مقررہ مدت تک سودا کرے۔“ [بخاري، كتاب السلم، باب السلم فى كيل معلوم۔۔ مسلم، كتاب المساقات، باب السلم]
29۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیع سلم کرے تو مال پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی طرف یہ سودا منتقل نہ کرے۔“ [ابو داؤد۔ كتاب الاجارة، باب السلف لايحول]
اب ہم مختلف عنوانات کے تحت احادیث درج کرتے ہیں:
(1) شرح منافع:
محمد بن سیرین (تابعی) فرماتے ہیں کہ دس کا مال گیارہ میں بیچنے میں کوئی قباحت نہیں اور جو خرچہ اس پر پڑا ہے اس پر بھی یہی منافع لے سکتا ہے۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب من اجري امرالامصار على مايتعارفون]
(2) واحد کلام:
سیدنا قیلہؓ ام انمار کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت کیا کرتی ہوں اور جو چیز مجھے خریدنا ہوتی ہے اس کے کم دام لگاتی ہوں۔ پھر دام بڑھاتے بڑھاتے اس قیمت پر آجاتی ہوں جو میرا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چیز بیچنا ہو تو زیادہ دام کہتی ہوں اور پھر کم کرتے کرتے اپنے مقصود پر آجاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیلہ! یہ کام اچھا نہیں۔ جو چیز جتنے کو بیچنا چاہتی ہو اتنے ہی دام کہہ دو۔ لینے والا چاہے گا تو لے لے گا ورنہ نہیں اور جو چیز خریدو اس کی بھی ایک ہی قیمت کہہ دو، دینے والا چاہے تو لے لے ورنہ نہ لے۔“ [ابن ماجه، ابواب التجارات، باب السوم]
(3) السابق فالسابق:
سیدنا سمرہ بن جندبؓ اور عقبہ بن عامرؓ دونوں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو صاحب اختیار ایک ہی چیز خریدیں تو وہ چیز اس کی ہو گی جس نے پہلے خریدی۔“ [ابن ماجه۔ كتاب البيوع۔ باب السابق فالسابق]
(4) قیمت بتانا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال کی قیمت صاحب مال ہی لگانے کا زیادہ حقدار ہے۔“ [بخاري۔ كتاب البيوع۔ باب صاحب السلعة احق بالسوم]
(5) غائب چیز کا سودا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جسے اس نے دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ سودا بحال رکھے یا فسخ کر دے۔“ [دار قطني بيهقي بحواله فقه السنهج 2ص 136]
(6) قیمت میں اختلاف:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے اور ان میں کوئی شہادت یا ثبوت موجود نہ ہو تو اس شخص کی بات معتبر ہو گی جو مال کا مالک ہے یا پھر وہ سودا چھوڑ دیں۔“ [ترمذي ابواب البيوع، باب اذا اختلف البيعان]
(7) ناپ تول کی مزدوری بائع پر ہے:
سیدنا عثمانؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو بیچے تو ناپ کر دے اور خریدے تو ناپ کر لے۔“ [بخاري، كتاب البيوع۔ باب الكيل على البائع و المعطي]
(8) خرید کردہ مال کا تاوان:
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ بیع کے وقت جو مال موجود تھا (اگر مشتری اسے بائع کے پاس چھوڑ جائے) اور وہ تلف ہو جائے تو تاوان خریدار پر پڑے گا۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب من اشتري متاعا اودابة فوضعه عندالبائع]
(9) کج بحث جھگڑالو:
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص کج بحث جھگڑالو ہے (جو خواہ مخواہ جھگڑے کا پہلو پیدا کر لیتا ہے۔)“ [بخاري، كتاب المظالم۔ باب قول الله و هوالد الخصام]
(10) ہبہ کردہ چیز کو خریدنا:
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک گھوڑا مجاہد کو دیا۔ اس نے وہ گھوڑا کمزور کر دیا اور بازار میں فروخت کرنے کے لیے لے آیا۔ میں نے چاہا کہ اب یہ سستے داموں مل رہا ہے تو خرید لوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدنا خواہ وہ تجھے ایک درہم میں دے دے کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اسے چاٹ جاتا ہے۔“ [بخاري، كتاب الهبه، باب لايحل لاحدان يرجع فى هبته و صدقته]
(11) غیر موجود چیز کا سودا:
حکیم بن حزامؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز بیچنے سے منع فرما دیا، جو میرے پاس موجود نہ ہو۔ [ترمذي، ابواب البيوع، باب ماجاء فى الكراهية ماليس عنده]
(12) راہ میں سودا نہ کیا جائے:
سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غلہ وغیرہ کے قافلوں کو آگے جا کر مت ملو۔ جو کوئی آگے جا کر مال خریدے اور بعد میں مال کا مالک منڈی میں آئے تو اسے سودا فسخ کرنے کا اختیار ہے۔“ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم تلقي الجلب]
(13) ناپ تول کے بغیر سودا نہ کیا جائے:
سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور (یا کسی دوسرے غلہ) کے ڈھیر کی سودا بازی سے منع فرمایا جس کا اس کے معروف پیمانہ سے ناپ معلوم نہ ہو۔“ [مسلم۔ كتاب البيوع باب تحريم صبرالتمر]
(14) قبضہ سے پہلے آگے سودا نہ کیا جائے:
سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ لوگ بازار کے بالائی حصہ میں سودا کرتے پھر وہیں بیچ دیتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقام پر بیچنے سے منع فرمایا۔ یہاں تک کہ اس غلہ کو منتقل نہ کیا جائے یعنی اپنے قبضہ میں نہ کر لیا جائے۔ [بخاري كتاب البيوع، باب ما ذكر فى الاسواق۔۔ مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض] سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ بن ماپے تولے اناج کے ڈھیر خریدتے انہیں مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک وہ اپنے گھر نہ لے جائیں مال نہ بیچیں۔ [بخاري كتاب البيوع، باب مايذكر فى بيع الطعام والحكرة] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے تو جب تک اس کے پورا ہونے کی تسلی نہ کر لے اسے فروخت نہ کرے۔ اور ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ جب تک اسے ناپ نہ لے۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب الكيل على البائع و المعطي]
(15) بائع اور مشتری کے درمیان تیسرا آدمی سودا نہ کرے:
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی کی بات کے درمیان منگنی کی بات کرے۔ ہاں اس کی اجازت سے ایسا کر سکتا ہے۔“ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الرجل عليٰ بيع اخيه]
(16) سودا خراب کرنا:
سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان اپنے بھائی کے چکائے ہوئے سودے پر سودا نہ چکائے۔ (یعنی زیادہ رقم کا لالچ دے کر سودا خراب نہ کرے۔)“ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه و سومه]
(17) قیمت کم کر کے دوسروں کو نقصان پہچانا:
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ بازار میں حاطبؓ بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے جو بازاری قیمت سے کم قیمت پر منقیٰ بیچ رہے تھے۔ آپؓ نے انہیں فرمایا ”یا تو نرخ زیادہ کرو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔“ [موطا، كتاب البيوع، باب الحكرة والتربص] تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ چیز کے مالک کو اپنی چیز کم داموں پر بیچنے کا اختیار ہے۔ (حوالہ ایضاً) بشرطیکہ اس سے دوسروں کو نقصان پہچانا مقصود نہ ہو۔
(18) کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ظلم ہے:
ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خبردار! ظلم نہ کرو، خبردار! کسی کا مال دوسرے کے لیے اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں۔“ [بيهقي، دارقطني بحواله مشكوة، كتاب البيوع، باب الغصب والعارية۔ فصل ثاني]
(19) قرض دینے کے بعد مقروض سے سودا بازی نہ کی جائے: ¤
(20) جس مال پر قبضہ نہیں ہوا اس کا نفع جائز نہیں:
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(1) پیشگی دیا ہوا قرض اور بیع جائز نہیں (2) ایک بیع میں دو صورتیں جائز نہیں (نقد قیمت کم ادھار زیادہ) (3) جس مال پر قبضہ نہ ہوا ہو (نہ رقم ادا کی اس کا منافع مشتری کو) حلال نہیں (4) اور جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا سودا نہ کرو۔“ [ابو داؤد، كتاب البيوع، باب فى الرجل يبيع ماليس عنده]
(21) ملاوٹ والی چیز کو الگ کر کے بیچا جائے:
فضالہؓ بن عبید کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ جس میں سونا اور نگینے تھے۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ مالیت کا پایا۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی چیز جب تک الگ الگ نہ کر لی جائے اس کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔“ [مسلم، كتاب المساقاة و المزارعة باب الربا]
(22) چوری کے مال کی بیع:
(1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”جس شخص نے اپنا مال بعینہ کسی کے پاس پا لیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور مسروقہ مال خریدنے والا اس شخص کو ڈھونڈے جس نے اس کے پاس مال بیچا تھا۔“ [نسائي، ابو داؤد، كتاب الاجارة، باب فى الرجل يجد عين ماله عندر جل]
(2) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ چوری کے گناہ اور اس کی سزا میں برابر کا شریک ہے۔“ [بيهقي بحواله فقه السنةج 3ص 146]
(2) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ چوری کے گناہ اور اس کی سزا میں برابر کا شریک ہے۔“ [بيهقي بحواله فقه السنةج 3ص 146]
(23) سودا واپس موڑ لینا:
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ الا یہ کہ خیار کی شرط کر لی جائے اور دونوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس خوف سے جلد جدا ہونے کی کوشش کرے کہ کہیں سودا واپس نہ ہو جائے۔“ [ترمذي، ابواب البيوع، باب البيعان بالخيار] سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص سودا واپس موڑ لے (قیامت کے دن) اللہ اس کی لغزشیں واپس لے لے گا۔“ [ابو داؤد، كتاب الاجارة فى فضل الاقالة]
(24) مسجد میں خرید و فروخت کرنا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم مسجد میں کسی کو کوئی چیز بیچتا یا خریدتا دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے۔ اور جب کسی کو مسجد میں کوئی گمشدہ چیز ڈھونڈتے دیکھو تو اسے کہو۔ اللہ کرے تمہیں وہ نہ ملے۔“ [ترمذي، ابواب البيوع، باب النهي عن البيع فى المسجد]
(25) نمازوں کی اوقات میں خرید و فروخت:
جمعہ کی اذان کے بعد لین دین یا دوسرے مشاغل حرام ہیں۔ [سوره جمعه: 9] یہی صورت عام نمازوں کے لیے بھی ہے۔
¤ (26) نیلام:
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ بیچنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون یہ ٹاٹ اور پیالہ خریدتا ہے؟ ایک شخص نے کہا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کوئی ایک درہم سے زیادہ دیتا ہے؟ پھر ایک شخص نے ان چیزوں کے آپ کو دو درہم دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیچ دیں۔ [ترمذي، ابواب البيوع، باب ماجاء فى من يزيد]
(27) شراکت:
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے۔ ”دو شریکوں کا تیسرا میں ہوتا ہوں جب تک کوئی ان میں سے خیانت نہ کرے۔ پھر جب ان میں سے کوئی خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں۔“ [ابو داؤد، كتاب البيوع، باب فى الشركه] اور رزین نے یہ اضافہ کیا ”اور (اللہ کی جگہ) شیطان آجاتا ہے۔“ [مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الشركة والوكالة فصل ثالث]
[49] بظاہر سود، جوا اور رشوت، ان تینوں میں باہمی رضا مندی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ رضا مندی اضطراری ہوتی ہے مثلاً قرض لینے والے کو اگر قرض حسنہ مل سکتا ہو تو وہ کبھی سود پر قرضہ لینے پر آمادہ نہ ہو گا۔ جواری اس لیے رضا مند ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے جیتنے کی امید ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی کو ہارنے کا خطرہ ہو تو وہ کبھی جوا نہ کھیلے گا۔ اسی طرح اگر رشوت دینے والے کو معلوم ہو کہ اسے رشوت دیئے بغیر بھی حق مل سکتا ہے تو وہ کبھی رشوت نہ دے۔ علاوہ ازیں سودے بازی میں اگر ایک فریق کی پوری رضا مندی نہ ہو اور اسے اس پر مجبور کر دیا جائے تو وہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اسے بیع خیار کہتے ہیں۔
[49] بظاہر سود، جوا اور رشوت، ان تینوں میں باہمی رضا مندی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ رضا مندی اضطراری ہوتی ہے مثلاً قرض لینے والے کو اگر قرض حسنہ مل سکتا ہو تو وہ کبھی سود پر قرضہ لینے پر آمادہ نہ ہو گا۔ جواری اس لیے رضا مند ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے جیتنے کی امید ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی کو ہارنے کا خطرہ ہو تو وہ کبھی جوا نہ کھیلے گا۔ اسی طرح اگر رشوت دینے والے کو معلوم ہو کہ اسے رشوت دیئے بغیر بھی حق مل سکتا ہے تو وہ کبھی رشوت نہ دے۔ علاوہ ازیں سودے بازی میں اگر ایک فریق کی پوری رضا مندی نہ ہو اور اسے اس پر مجبور کر دیا جائے تو وہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اسے بیع خیار کہتے ہیں۔
[50] خود کشی کی حرمت:۔
اس جملہ کے تین مطلب ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسے سابقہ مضمون سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہو گا کہ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کر کے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ اور اگر اسے الگ جملہ سمجھا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یعنی قتل ناحق، جو حقوق العباد میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور قیامت کو حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل ناحق کے مقدمات کا ہی فیصلہ ہو گا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ خود کشی نہ کرو۔ کیونکہ انسان کی اپنی جان پر بھی اس کا اپنا تصرف ممنوع اور ودکشی گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی کو ایک پھوڑا نکلا۔ جب اسے تکلیف زیادہ ہوئی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور پھوڑے کو چیر دیا۔ پھر اس سے خون بند نہ ہوا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا۔“ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) حسن نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف بڑھایا اور کہا اللہ کی قسم مجھ سے یہ حدیث جندب (بن عبد اللہ بجلی) نے بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسجد میں۔
[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ]
[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ]