تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ:} یعنی وہ تجارت اور لین دین (صنعت و حرفت وغیرہ) جس میں حقیقی باہمی رضا مندی ہو، اس کے ذریعے سے کماؤ اور کھاؤ۔ آپس کی رضا مندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شرع کے خلاف نہ ہو، کیونکہ وہ حقیقی رضا مندی ہوتی ہی نہیں، مجبوری کی رضا مندی ہوتی ہے، مثلاً رشوت اور سود میں بظاہر رضا مندی ہے مگر حقیقی نہیں، کیونکہ ایک فریق دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جوئے اور لاٹری وغیرہ کا معاملہ ہے کہ یہ دونوں فریق نفع کی موہوم امید کے فریب میں آکر یہ کام کر رہے ہیں، اس فریب کو حقیقی رضا مندی نہیں کہا جا سکتا۔ پورے طور پر باہمی رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بیچنے والا اور خریدنے والا مجلس بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک دونوں کو ایک دوسرے کی بیع رد کرنے کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو (بیع فسخ کرنے کا) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے اس تجارت کے جس میں یہ اختیار باقی رکھا جائے۔“ [بخاری، البیوع، باب البیعان بالخیار ما لم یتفرقا: ۲۱۱۱، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما]
➌ { وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ:} اس کے تین معانی ہو سکتے ہیں اور تینوں مراد ہیں، پہلا یہ کہ شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے حقیقی باہمی رضا مندی کے بغیر اگر لین دین کرو گے تو اس کا نتیجہ آپس میں قتل و غارت ہو گا، جیسا کہ جوئے کے نتیجے میں ہارنے والے کے ہاتھوں کئی جیتنے والے قتل ہو جاتے ہیں، لہٰذا یہ کام مت کرو۔ دوسرا یہ کہ ایک دوسرے کو قتل مت کرو، کیونکہ یہ اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے اور تیسرا یہ کہ خود کشی مت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے چھری کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم میں چھری اس کے ہاتھ میں ہو گی اور وہ اس کے ساتھ اپنے پیٹ کو پھاڑے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو جہنم میں اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گرا کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہے گا۔ “ [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم…: ۱۰۹۔ بخاری: ۵۷۷۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، غبن وغیرہ۔
2۔ سود اور اس کی تمام شکلیں، خواہ یہ سود مفرد ہو، مرکب ہو، ڈسکاؤنٹ ہو، مارک اپ اور مارک ڈاؤن ہو یا خواہ یہ ذاتی قرضے کا سود ہو اور خواہ یہ ربا النسیۂ (مدت کے عوض سود) ہو یا ربا الفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ) ہو۔
3۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتا ہو۔ جیسے جوا، لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔
4۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے جن میں صرف ایک ہی عوض مقرر ہوتا ہے دوسرا نہیں ہوتا۔ (عوضین یہ ہے کہ مثلاً ایک کتاب کی قیمت سو روپے ہے تو کتاب کا عوض سو روپے اور سو روپے کا عوض کتاب) جیسے غوطہ خور سے ایک غوطہ کی قیمت مقرر کرنا، بیع ملامسہ، منابذہ۔ بچوں کے کھیل کہ جس چیز پر بچے کا نشانہ لگے وہ اتنی قیمت میں اس کی۔
5۔ ہر وہ لین دین جس میں کسی ایک فریق کا فائدہ یقینی ہو دوسرے کو خواہ فائدہ ہو یا نقصان جیسے سود اور ایسے تمام سودے اور معاملات جن میں یہ شرط پائی جاتی ہو۔
6۔ ایسے سودے جو محض تخمینہ سے طے کیے جائیں اور ان میں دھوکہ کا احتمال موجود ہو جیسے کسی ڈھیر کا بالمقطع سودا کرنا یا مال خرید کر قبضہ کیے بغیر آگے چلا دینا یا غیر موجود مال کا سودا کرنا اور باغات وغیرہ کے پیشگی سودے (ان میں بیع سلم اور بیع عرایا کی رخصت ہے جو چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہے اور غریبوں کی سہولت کے لیے جائز کی گئی ہے۔)
7۔ وہ بیع جس میں مشتری دھوکہ دینے کی کوشش کرے مثلاً عیب چھپانا، جانور کا دودھ روک کر بیچنا، ناپ تول میں کمی بیشی کر جانا، دوسرے کو پھنسانے کے لیے بولی چڑھانا وغیرہ۔
8۔ جو اشیاء حرام ہیں ان کی خرید و فروخت جیسے شراب کی سوداگری یا ان اشیاء کی جو شراب خانے میں استعمال ہوتی ہیں، مردار کا گوشت، تصویریں اور مجسمے، فحاشی پر مشتمل کتابیں اور تصویریں، کسی حرام کاروبار کے لیے دکان یا مکان کرایہ پر دینا، کاہن کی کمائی، فاحشہ کی کمائی، کتے کی قیمت وغیرہ۔
9۔ حکومت کے ذریعہ دوسروں کے مال بٹورنا مثلاً لین دین کے جھوٹے مقدمات اور رشوت وغیرہ یا حکومت کا لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے ان کو اپنی مرضی کے مطابق لین دین پر مجبور کرنا۔ جیسے حکومت کے محکمہ ہائے ایل ڈی اے، کے ڈی اے وغیرہ دوسرے لوگوں کی زمینیں ان کی رضا مندی کے بغیر حاصل (AQUIRE) کر لیتے ہیں۔
10۔ کتاب اللہ میں تحریف و تاویل اور غلط فتووں سے مال بٹورنا اور یہ کام بالخصوص علماء سے مختص ہے۔
اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”بائع اور مشتری صرف اسی حال میں جدا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے راضی ہوں۔“
[ترمذی، ابواب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں سودے کو پورا کرنے یا فسخ کرنے کا اس وقت تک اختیار رکھتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں سوائے بیع خیار کے“ (جس میں معین مدت کے اندر سودا فسخ کرنے کی شرط ہوتی ہے۔)
[بخاری، کتاب البیوع، باب البیعان بالخیار مالم یتفرقا]
3۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے اللہ اس کے لیے دوزخ واجب کر دیتا ہے اور جنت اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔“ کسی نے آپ سے پوچھا اگرچہ یہ حق تلفی بالکل معمولی قسم کی ہو؟ فرمایا ”اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔“
[مسلم بحوالہ فقہ السنہ جلد 2 صفحہ 149]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عز و جل چار قسم کے آدمیوں سے دشمنی رکھتا ہے۔ ایک وہ جو قسمیں کھا کر سودا بازی کرتا ہو، دوسرے محتاج جو اکڑ باز ہو۔ تیسرے بوڑھے زانی سے اور چوتھے ظلم کرنے والے حاکم سے“
[نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب الفقیر المحتال]
5۔ سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور انہیں دردناک عذاب ہو گا۔“ میں نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ وہ تو نامراد ہو گئے اور خسارہ میں رہے۔“ فرمایا۔ ”ایک تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا۔ دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔“
[مسلم، کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم تنفیق السلعۃ بالحلف]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے تاجروں کے گروہ! سودے بازی میں بے ہودہ باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں لہٰذا تم ان کے ساتھ صدقہ بھی ملا لیا کرو۔“
[ترمذی، ابواب البیوع، باب ماجاء فی التجار۔ نسائی، کتاب البیوع باب الحلف الواجب]
7۔ ناپ تول میں کمی سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلا شبہ تم دو ایسے کاموں کے والی بنائے گئے ہو کہ تم سے پہلے کی قومیں اسی جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئیں۔“
[ترمذی، کتاب البیوع، باب فی المکیال و المیزان]
8۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لے گئے وہاں ایک تولنے والا کوئی جنس تول رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا 'تول اور کچھ جھکتا تول۔
[نسائی، کتاب البیوع، باب الرجحان فی الوزن]
9۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ یہود کو غارت کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچ ڈالا۔“
[بخاری، کتاب البیوع باب لایذاب شحم المیتۃ]
10۔ جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلا شبہ اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی سوداگری کو حرام کیا ہے۔“
[بخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام]
11۔ ابو مسعود انصاریؓ کہتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔“
[بخاری، کتاب البیوع، باب ثمن الکلب]
12۔ سیدہ ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں بھی ایک آدمی ہوں۔ تم میرے سامنے جھگڑا لیے آتے ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی دلیل دوسرے فریق کی نسبت اچھی طرح بیان کرتا ہے اور میں جو سنتا ہوں اس پر فیصلہ کر دیتا ہوں۔ پھر اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا حق دلا دوں تو وہ ہرگز نہ لے۔ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں“ [بخاري، كتاب الحيل، باب بلاعنوان۔ بخاري، كتاب الاحكام، باب من قضي له من حق اخيه فلا يا خذه]
13۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”جو شخص تصویریں بناتا ہے، قیامت کے دن اللہ اسے کہے گا کہ اب اس میں جان بھی ڈال اور وہ یہ کام کبھی نہ کر سکے گا۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب بيع التصاوير التى ليس فيها الروح]
14۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بازار میں غلہ لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔ [ابن ماجه، دارمي بحواله مشكوة، كتاب البيوع، باب الاحتكار، فصل ثاني]
15۔ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ”جس شخص نے اپنی عیب دار چیز عیب بتائے بغیر بیچی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا اور فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۔“ [ابن ماجه بحواله مشكوة، كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع۔ فصل ثالث]
16۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”بائع اور مشتری دونوں جب تک جدا نہ ہوں، مختار ہیں۔ پھر اگر انہوں نے سچ بولا اور صاف گوئی سے کام لیا تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔ اور وہ عیب وغیرہ چھپا گئے اور جھوٹ بولا تو ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب اذابين البيعان نيز باب مايمحق الكذب والكتمان فى البيع]
17۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) آپ کا ایک غلہ کے ڈھیر پر گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو انگلیوں کو نمی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”اے غلہ والے! یہ کیا؟“ وہ کہنے لگا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش ہو گئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو تو نے (اس نمدار غلے کو) ڈھیر کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکتے۔“ پھر فرمایا ”جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“ [مسلم، كتاب الايمان، باب قول النبى من غشنا فليس منا]
18۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی اونٹنی یا بکری خریدے جس کا دودھ بڑھایا گیا ہو تو دودھ دوہنے کے بعد خریدنے والے کو دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔“ [مسلم، كتاب البيوع۔ باب حكم بيع المصراة]
19۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ اختیار تین دن تک ہے۔ [حواله ايضاً]
20۔ سیدنا جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ (کھیتی پکنے سے پہلے سود اچکا لینے) سے اور مزابنۃ (کھجور، انگور پکنے سے پہلے خشک کھجور یا انگور کا سودا چکا لینے) سے اور مخابرہ (زمین کو بٹائی پر دینا۔ جس کی بعد میں اجازت دے دی گئی) سے اور معاومہ (بیع سنین یعنی چند سالوں کی فصل کا پیشگی سودا چکا لینے) سے اور ثنیا (سودا چکاتے وقت چند درختوں یا کھیتی کا کچھ حصہ مستثنیٰ کر لینے) سے منع فرمایا اور بیع عرایا (چھوٹے پیمانے پر بیع مزابنۃ جس میں غریبوں کی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے) کی اجازت دی۔ [بخاري، كتاب المساقات، باب الرجل يكون له ممرٌّ او شرب فى الحائط، مسلم، كتاب البيوع۔ باب النهي عن المحاقلة] اور عرایا میں جو رخصت ہے وہ پانچ وسق (اندازاً بیس من) تک ہے۔ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم الرطب بالتمر الا فى العرايا]
21۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں لوگ حبل الحبلہ تک اونٹ کے گوشت کی سودا بازی کرتے اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی بیع سے منع فرما دیا۔ [مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الحبل الحبلة۔۔ بخاري كتاب البيوع، عنوان باب]
22۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے ادھار کی ادھار سے (یعنی دونوں طرف ادھار) بیع کرنے سے منع فرمایا [دار قطني بحواله مشكوة۔ كتاب البيوع۔ باب المنهي عنها من البيوع۔ فصل ثاني]
23۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے بیع الحصاۃ (کنکریاں پھینکنے کی بیع) اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب بيع الغر ر۔۔ مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع الحصاة والبيع الذى فيه غر ر]
24۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ایک ملامسہ اور دوسری منابذہ اور ملامسہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک بلا سوچے سمجھے دوسرے کا کپڑا چھوئے اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے۔ اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے (اور اس طرح یہ بیع لازم ہو جائے) [بخاري، كتاب البيوع، باب الملامسة و المنابذة۔۔ مسلم۔ كتاب البيوع۔ باب ابطال بيع الملامسته و المنابذة]
25۔ سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش (بائع کی طرف سے مقررہ لوگ جو خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنے پر راغب کر سکیں۔ نیز چڑ ہی کی بولی) سے منع فرمایا۔ [بخاري، كتاب البيوع، باب النجش]
26۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے لاچار آدمی کی سودا بازی سے فائدہ اٹھانے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی سودا بازی سے منع فرمایا۔ [ابو داؤد، كتاب البيوع، باب ماجاء فى بيع المضطر]
27۔ سیدنا عمرو بن شعیبص اپنے باپ سے اپنے دادے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بیع عربان (بیعانہ کی ضبطی والے سودے) سے منع فرمایا۔ [مؤطا، كتاب البيوع، باب بيع العربان]
28۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں کے ایک یا دو یا تین سال کے لیے پیشگی سودے کر لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی کسی چیز کا پیشگی سودا کرے تو اسے چاہیے کہ مقررہ ناپ میں، مقررہ وزن میں اور مقررہ مدت تک سودا کرے۔“ [بخاري، كتاب السلم، باب السلم فى كيل معلوم۔۔ مسلم، كتاب المساقات، باب السلم]
29۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیع سلم کرے تو مال پر قبضہ کرنے سے پہلے کسی دوسرے کی طرف یہ سودا منتقل نہ کرے۔“ [ابو داؤد۔ كتاب الاجارة، باب السلف لايحول]
اب ہم مختلف عنوانات کے تحت احادیث درج کرتے ہیں:
(2) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے چوری کا مال خریدا اور وہ جانتا تھا کہ وہ چوری کا مال ہے تو وہ چوری کے گناہ اور اس کی سزا میں برابر کا شریک ہے۔“ [بيهقي بحواله فقه السنةج 3ص 146]
[49] بظاہر سود، جوا اور رشوت، ان تینوں میں باہمی رضا مندی پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ رضا مندی اضطراری ہوتی ہے مثلاً قرض لینے والے کو اگر قرض حسنہ مل سکتا ہو تو وہ کبھی سود پر قرضہ لینے پر آمادہ نہ ہو گا۔ جواری اس لیے رضا مند ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنے جیتنے کی امید ہوتی ہے۔ ورنہ اگر کسی کو ہارنے کا خطرہ ہو تو وہ کبھی جوا نہ کھیلے گا۔ اسی طرح اگر رشوت دینے والے کو معلوم ہو کہ اسے رشوت دیئے بغیر بھی حق مل سکتا ہے تو وہ کبھی رشوت نہ دے۔ علاوہ ازیں سودے بازی میں اگر ایک فریق کی پوری رضا مندی نہ ہو اور اسے اس پر مجبور کر دیا جائے تو وہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اسے بیع خیار کہتے ہیں۔
[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہو سکتی ہے، آپ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت «لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ» الخ [24النور:61] اتری۔
«تِجَارَةً» کو «تِجَارَةٌ» بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ استثنا منقطع ہے گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ حرمت والے اسباب سے مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے نفع اٹھانا جائز ہے جو خریدار اور بیچنے والے کی باہم رضا مندی سے ہو۔
جیسے دوسری جگہ ہے «وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی بےگناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے ساتھ ہو تو جائز ہے ‘۔
اور جیسے دوسری آیت میں ہے «لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ» [44-الدخان:56] وہاں موت نہ چکھیں گے مگر پہلی بار کی موت۔
بعض حضرات فرماتے ہیں کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری میں ہے جب دو شخص خرید و فروخت کریں تو ہر ایک کو اختیار ہے جب تک الگ الگ نہ ہوں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2109،2111]
اسی حدیث کے مطابق امام احمد، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم اور ان کے سب ساتھیوں کا فتویٰ ہے جمہور سلف و خلف رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی فتویٰ ہے اور اس پوری رضا مندی میں شامل ہے خرید و فروخت کے تین دن بعد تک اختیار دینا رضا مندی میں شامل ہے بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے مطابق سال بھر کی بھی ہو سکتی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب یہی ہے گو ان کے نزدیک صرف لین دین سے ہی بیع صحیح ہو جاتی ہے۔
شافعی مذہب میں بھی ایک قول یہ ہے اور ان میں سے بعض فرماتے ہیں کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں لوگ بیوپار کے لیے رکھتے ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے۔ بعض اصحاب کا اختیار سے مراد یہی ہے جیسے کہ متفق علیہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينهى تعالى عباده المؤمنين أن يأكلوا أموالهم بينهم بالباطل، وهذا يشمل أكلَها بالغصوب والسرقات وأخذَها بالقمار والمكاسب الرديئة، بل لعله يدخل في ذلك أكل مال نفسِك على وجه البطر والإسراف؛ لأن هذا من الباطل، وليس من الحق. ثم إنه لما حرَّم أكلها بالباطل؛ أباح لهم أكلها بالتجارات والمكاسب الخالية من الموانع المشتملة على الشروط من التراضي وغيره.
{ولا تقتلوا أنفسكم}؛ أي: لا يقتل بعضكم بعضاً، ولا يقتل الإنسان نفسه، ويدخل في ذلك الإلقاء بالنفس إلى التهلكة وفعل الأخطار المفضية إلى التلف والهلاك {إنَّ الله كان بكم رحيماً}: ومن رحمته أن صان نفوسَكم وأموالكم ونهاكم عن إضاعتها وإتلافها ورتَّب على ذلك ما رتَّبه من الحدود. وتأمل هذا الإيجاز والجمع في قوله {لا تأكلوا أموالكم} {ولا تقتلوا أنفسكم}؛ كيف شمل أموال غيرك ومال نفسك وقتل نفسك وقتل غيرك بعبارة أخصر من قوله: لا يأكل بعضكم مال بعض ولا يقتل بعضكم بعضاً؛ مع قصور هذه العبارة على مال الغير ونفس الغير، مع أن إضافة الأموال والأنفس إلى عموم المؤمنين فيه دلالة على أنَّ المؤمنين في توادِّهم وتراحمهم وتعاطفهم ومصالحهم كالجسد الواحد؛ حيث كان الإيمان يجمعهم على مصالحهم الدينية والدنيوية.
ولما نهى عن أكل الأموال بالباطل التي فيها غاية الضرر عليهم، على الآكل ومن أخذ ماله؛ أباح لهم ما فيه مصلحتهم من أنواع المكاسب والتجارات وأنواع الحرف والإجارات، فقال: {إلا أن تكون تجارةً عن تراضٍ منكم}؛ أي: فإنها مباحة لكم. وشَرَطَ التراضي مع كونها تجارةً لدلالة أنه يشترط أن يكون العقد غير عقد رباً، لأنَّ الربا ليس من التجارة، بل مخالفٌ لمقصودها، وأنه لا بدَّ أن يرضى كلٌّ من المتعاقدين ويأتي به اختياراً، ومن تمام الرِّضا أن يكون المعقودُ عليه معلوماً؛ لأنه إذا لم يكن كذلك؛ لا يتصوَّرُ الرِّضا، مقدوراً على تسليمه؛ لأنَّ غير المقدور عليه شبيهٌ ببيع القمار؛ فبيع الغرر بجميع أنواعه خالٍ من الرِّضا فلا ينفذ عقده. وفيها أنه تنعقد العقودُ بما دلَّ عليها من قول أو فعل؛ لأن الله شرط الرِّضا، فبأيِّ طريق حصل الرِّضا؛ انعقد به العقد.
ثم ختم الآية بقوله: {إن الله كان بكم رحيماً}: ومن رحمتِهِ أن عصم دماءكم وأموالَكم، وصانَها، ونهاكُم عن انتهاكِها.