وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ۚ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ۚ وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ مُّحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾
اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں، یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا ہے اور تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں جو ان کے سوا ہیں کہ اپنے مالوں کے بدلے طلب کرو، اس حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو، نہ کہ بدکاری کرنے والے۔ پھر وہ جن سے تم ان عورتوں میں سے فائدہ اٹھائو پس انھیں ان کے مہر دو، جو مقرر شدہ ہوں اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مقرر کر لینے کے بعد آپس میں راضی ہو جائو، بے شک اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا،کمال حکمت والا ہے۔
En
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
En
اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وه جو تمہاری ملکیت میں آجائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے، اس لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو، اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ علم واﻻ حکمت واﻻ ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ نیز تمام شوہروں والی عورتیں بھی (حرام ہیں) مگر وہ کنیزیں جو تمہارے قبضہ [40] میں آجائیں۔ تمہارے لیے یہی اللہ کا قانون ہے۔ ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں انہیں اپنے مال کے ذریعہ حاصل [41] کرنا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ بشرطیکہ اس سے تمہارا مقصد نکاح میں لانا ہو، محض شہوت رانی نہ ہو۔ پھر ان میں سے جن سے تم (نکاح کا) لطف اٹھاؤ انہیں ان کے مقررہ حق مہر ادا کرو۔ ہاں اگر مہر مقرر ہو جانے کے بعد زوجین میں باہمی رضا مندی سے کچھ سمجھوتہ ہو جائے تو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ یقیناً سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اور جو شخص کسی آزاد [42] عورت کو نکاح میں لانے کا مقدور نہ رکھتا ہو وہ کسی مومنہ کنیز سے نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں۔ اور اللہ تمہارے ایمان کا حال خوب جانتا ہے
[40] موجودہ دور کے مہذب معاشرہ میں فاتح قوم قیدی عورتوں سے جس طرح کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ صریح زنا ہے اور جس طرح آج کل قیدی عورتوں کو ایک کیمپ میں رکھا جاتا ہے اور فوجیوں کو عام اجازت دی جاتی ہے کہ جس عورت سے چاہیں زنا کرتے رہیں۔ یہ صرف زنا ہی نہیں رہتا بلکہ ایک وحشیانہ فعل بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع پر چند در چند پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: قیدی عورتوں اور لونڈیوں سے تمتع کی شرط:۔
ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا۔ ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، مسلمانوں نے فتح پائی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے۔ صحابہ کرام نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کرنے کو گناہ سمجھا کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر عدت کے بعد ان لونڈیوں کو ان کے لیے حلال کر دیا۔
[مسلم۔ کتاب الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ]
اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہو گا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔
2۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہو گا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔
3۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آلے۔ اور یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہو گی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید احکام یہ ہیں:
4۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کر سکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
5۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہو جائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
6۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کر سکتا۔
7۔ جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہو جائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ از خود آزاد ہو جائے گی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں۔
8۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی نا انصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔ اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کر دی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘
[بخاری، کتاب العتق، باب فضل من ادب جاریتہ و علمھا]
ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی با عزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے سے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا۔
[41] یعنی مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی آزاد عورتوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہو، درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح کر سکتے ہو:
1۔
[مسلم۔ کتاب الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ]
اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے۔
1۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہو گا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔
2۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہو گا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔
3۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آلے۔ اور یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہو گی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید احکام یہ ہیں:
4۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کر سکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
5۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہو جائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
6۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کر سکتا۔
7۔ جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہو جائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ از خود آزاد ہو جائے گی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں۔
8۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی نا انصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔ اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کر دی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘
[بخاری، کتاب العتق، باب فضل من ادب جاریتہ و علمھا]
ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی با عزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے سے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا۔
[41] یعنی مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی آزاد عورتوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہو، درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح کر سکتے ہو:
1۔
نکاح کی شرائط:۔
طلب سے مراد ایجاب و قبول ہے۔
2۔ یہ نکاح مستقلاً ہو۔ محض شہوت رانی کی غرض سے نہ ہو۔ اس سے نکاح متعہ کی حرمت ثابت ہوئی۔
3۔ حق مہر مقرر کرنا اور اس کی ادائیگی۔ الا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے یہ مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے اسی طرح مرد مقررہ مہر سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
4۔ اعلان نکاح۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ﴿وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ﴾ سے واضح ہے اور سنت سے اس کی صراحت مذکور ہے۔ یعنی نکاح کے کم از کم دو گواہ موجود ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ شیعہ حضرات اس آیت اور بعض صحیح احادیث سے نکاح متعہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا نکاح متعہ کے جواز یا حرمت کی تحقیق ضروری ہے۔ اس آیت سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ﴾ کے آگے ﴿اِليٰ اَجَلٍ مُّسَمًّي﴾ کے الفاظ بھی موجود تھے جو بعد میں منسوخ ہو گئے مگر ابن عباسؓ اس کے نسخ کے قائل نہیں۔
2۔ یہ نکاح مستقلاً ہو۔ محض شہوت رانی کی غرض سے نہ ہو۔ اس سے نکاح متعہ کی حرمت ثابت ہوئی۔
3۔ حق مہر مقرر کرنا اور اس کی ادائیگی۔ الا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے یہ مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے اسی طرح مرد مقررہ مہر سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
4۔ اعلان نکاح۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ﴿وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ﴾ سے واضح ہے اور سنت سے اس کی صراحت مذکور ہے۔ یعنی نکاح کے کم از کم دو گواہ موجود ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ شیعہ حضرات اس آیت اور بعض صحیح احادیث سے نکاح متعہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا نکاح متعہ کے جواز یا حرمت کی تحقیق ضروری ہے۔ اس آیت سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ﴾ کے آگے ﴿اِليٰ اَجَلٍ مُّسَمًّي﴾ کے الفاظ بھی موجود تھے جو بعد میں منسوخ ہو گئے مگر ابن عباسؓ اس کے نسخ کے قائل نہیں۔
نکاح متعہ ایک اضطراری رخصت تھی:۔
دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاح متعہ تین مواقع پر مباح کیا گیا اور پھر ساتھ ہی اس کی حرمت کا اعلان کیا۔ یہ جنگ خیبر، فتح مکہ اور اوطاس اور جنگ تبوک ہیں۔ ان مواقع پر ابتداءً نکاح متعہ کی اجازت دی جاتی تھی اور جنگ کے اختتام پر اس کی حرمت کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ گویا یہ ایک اضطراری رخصت تھی۔ اور صرف ان مجاہدین کو دی جاتی تھی جو محاذ جنگ پر موجود ہوتے تھے اور اتنے عرصہ کے لیے ہی ہوتی تھی۔ اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جنگ بدر، احد اور جنگ خندق کے مواقع پر ایسی اجازت نہیں دی گئی اور جن حالات میں یہ اجازت دی جاتی تھی وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:
1۔ ابن ابی عمرو کہتے ہیں کہ متعہ پہلے اسلام میں ایک اضطراری رخصت تھی جیسے مجبور و مضطر شخص کو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہے پھر اللہ نے اپنے دین کو محکم کر دیا اور نکاح متعہ سے منع کر دیا گیا۔
[مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ۔۔]
2۔ عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور اس بات کی اجازت دی کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ [حواله ايضاً]
3۔ اور اس کا طریق کار یہ ہوتا تھا کہ صحابہ کی التجا پر متعہ کی اجازت کا اعلان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صحابیؓ سے کرواتے تھے مگر جنگ کے خاتمہ پر اس کی حرمت کا اعلان خود فرماتے تھے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہؓ اور سلمہ بن اکوعؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہمارے پاس آیا اور پکار کر کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی ہے۔ [حواله ايضاً]
4۔ ربیع بن سمرہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ سو اگر کسی کے پاس ایسی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔ [حواله ايضاً] متعہ کی حرمت کا یہ اعلان حجتہ الوداع 10ھ میں ہوا تھا جیسا کہ اس دن سود اور جاہلیت کے خون کی بھی ابدی حرمت کا اعلان ہوا تھا۔
5۔ ایاس بن سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مرد اور عورت متعہ کی مدت مقرر نہ کریں تو تین دن رات مل کر رہیں۔ پھر اگر چاہیں تو مدت بڑھا لیں اور چاہیں تو جدا ہو جائیں۔
[بخاری کتاب النکاح، باب النھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ اخیرا]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ کی صورت ایسی نہ تھی جیسے کہ آج کل کے قحبہ خانوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک بار کی مجامعت کی اجرت طے کر لی جاتی ہے بلکہ اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ تین دن کی مدت بھی صرف صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں سیدنا علیؓ کے بیان کے مطابق اسے منسوخ کر دیا گیا۔
6۔ ابن عباسؓ جو متعہ کے قائل تھے وہ بھی صرف اضطراری حالت میں اس کی رخصت کے قائل تھے عام حالات میں نہیں۔ چنانچہ ابن جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ عورتوں سے متعہ کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی رخصت ہے۔ اس پر ان کا ایک غلام (عکرمہ) کہنے لگا، متعہ اس حالت میں جائز ہے جب مردوں کو سخت ضرورت ہو یا عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسا ہی اضطراری معاملہ ہو۔ ابن عباسؓ نے کہا ہاں! [بخاري۔ حواله ايضاً] ہم یہاں تمام روایات تو درج نہیں کر سکتے کیونکہ اخذ نتائج کے لیے یہ بھی کافی ہیں اور وہ نتائج درج ذیل ہیں:
(1) ﴿اليٰ اجل مسميٰ﴾ کی قرأت کے راوی صرف عبد اللہ بن عباسؓ ہیں جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف 13 سال تھی۔ جمع و تدوین قرآن کے وقت آپ قسم اٹھا کر کہتے ہی رہے کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے (اور ممکن ہے کہ جن ایام میں متعہ کا جواز تھا یہ قرأت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قرأت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہیں) مگر آپ کی اس بات کو دو وجوہ کی بنا پر پذیرائی نہ ہو سکی۔ ایک یہ کہ جمع و تدوین قرآن کے معاملہ میں خبر متواتر کو قبول کیا گیا تھا اور آپ کی یہ خبر واحد تھی۔ جس کا دوسرا کوئی راوی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دو مکی سورتوں مومنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں:
﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ﴾
یعنی حفاظت فروج کے دو ہی ذریعے ہیں ایک بیوی، دوسرا لونڈی۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے گزرنا ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔ لونڈی نہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں اور بیوی اس لیے نہیں ہوتی کہ بیوی کو میراث ملتی ہے۔ اور ایسی عورت کو میراث نہیں ملتی۔
(2) سیدنا ابن عباسؓ بھی صرف متعہ کے معاملہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے آپ کو اصرار قطعاً نہ تھا۔ جبکہ کثیر تعداد میں صحابہ متعہ کو حرام قرار دینے میں شدت اختیار کرتے تھے اور ابن عباسؓ کو ٹوکتے بھی تھے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ [مسلم۔ حواله ايضاً]
سیدنا ابن عباسؓ اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور جب یہ جواز متعہ کی بات کرتے تو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کرنے کے ساتھ ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جو متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس وقت عبد اللہ بن زبیرؓ خلیفہ تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم زیادتی کر رہے ہو میری عمر کی قسم! دور نبوی میں متعہ ہوتا رہا ہے۔ تو عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اس متعہ کو اپنے آپ پر آزماؤ۔ خدا کی قسم! اگر تو ایسا کرے تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں۔ [مسلم، حواله ايضاً]
(3) معلوم ایسا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ابدی حرمت کا اعلان تمام صحابہ کرام تک نہ پہنچ سکا جو کہ دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے تھے۔ یا یہ سیدنا ابن عباسؓ کی لچک کا اثر تھا کہ دور صدیقی اور دور فاروقی کی ابتدا تک درپردہ متعہ کے کچھ واقعات کا سراغ ملتا ہے۔ سیدنا عمرؓ چونکہ متعہ کے شدید مخالف تھے لہٰذا آپ اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ سامنے آئے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص شام سے آیا اور اس نے ام عبد اللہ ابی فتیحہ کے ہاں قیام کیا اور اسے کہا کہ میرے متعہ کے لیے کوئی عورت تلاش کرو۔ ام عبد اللہ نے ایک عورت کا پتہ بتلایا تو اس آدمی نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا۔ پھر شام کو واپس چلا گیا۔ کسی نے اس واقعہ کی سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے ام عبد اللہ کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ کی تصدیق کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے اسے کہا کہ جب وہ شخص پھر آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو ام عبد اللہ نے سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ تم نے متعہ کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ ”میں دور نبوی، دور صدیقی اور آپ کے عہد میں بھی متعہ کرتا رہا مگر کسی نے منع نہیں کیا۔“ سیدنا عمرؓ نے کہا اللہ کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں آج سے پہلے ممانعت کا حکم نہ دے چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کر دیتا۔ اچھا اب جدائی اختیار کر لو تاکہ نکاح اور سفاح (بد کاری) میں تمیز ہو سکے۔ یہ واقعہ در اصل مسلم میں جابر بن عبد اللہؓ کی اجمالی روایت کی تفصیل ہے اور اس واقعہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
1۔
1۔ ابن ابی عمرو کہتے ہیں کہ متعہ پہلے اسلام میں ایک اضطراری رخصت تھی جیسے مجبور و مضطر شخص کو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہے پھر اللہ نے اپنے دین کو محکم کر دیا اور نکاح متعہ سے منع کر دیا گیا۔
[مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ۔۔]
2۔ عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور اس بات کی اجازت دی کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ [حواله ايضاً]
3۔ اور اس کا طریق کار یہ ہوتا تھا کہ صحابہ کی التجا پر متعہ کی اجازت کا اعلان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صحابیؓ سے کرواتے تھے مگر جنگ کے خاتمہ پر اس کی حرمت کا اعلان خود فرماتے تھے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہؓ اور سلمہ بن اکوعؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہمارے پاس آیا اور پکار کر کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی ہے۔ [حواله ايضاً]
4۔ ربیع بن سمرہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ سو اگر کسی کے پاس ایسی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔ [حواله ايضاً] متعہ کی حرمت کا یہ اعلان حجتہ الوداع 10ھ میں ہوا تھا جیسا کہ اس دن سود اور جاہلیت کے خون کی بھی ابدی حرمت کا اعلان ہوا تھا۔
5۔ ایاس بن سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مرد اور عورت متعہ کی مدت مقرر نہ کریں تو تین دن رات مل کر رہیں۔ پھر اگر چاہیں تو مدت بڑھا لیں اور چاہیں تو جدا ہو جائیں۔
[بخاری کتاب النکاح، باب النھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ اخیرا]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ کی صورت ایسی نہ تھی جیسے کہ آج کل کے قحبہ خانوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک بار کی مجامعت کی اجرت طے کر لی جاتی ہے بلکہ اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ تین دن کی مدت بھی صرف صحابہ کرامؓ کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں سیدنا علیؓ کے بیان کے مطابق اسے منسوخ کر دیا گیا۔
6۔ ابن عباسؓ جو متعہ کے قائل تھے وہ بھی صرف اضطراری حالت میں اس کی رخصت کے قائل تھے عام حالات میں نہیں۔ چنانچہ ابن جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ عورتوں سے متعہ کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی رخصت ہے۔ اس پر ان کا ایک غلام (عکرمہ) کہنے لگا، متعہ اس حالت میں جائز ہے جب مردوں کو سخت ضرورت ہو یا عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسا ہی اضطراری معاملہ ہو۔ ابن عباسؓ نے کہا ہاں! [بخاري۔ حواله ايضاً] ہم یہاں تمام روایات تو درج نہیں کر سکتے کیونکہ اخذ نتائج کے لیے یہ بھی کافی ہیں اور وہ نتائج درج ذیل ہیں:
(1) ﴿اليٰ اجل مسميٰ﴾ کی قرأت کے راوی صرف عبد اللہ بن عباسؓ ہیں جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف 13 سال تھی۔ جمع و تدوین قرآن کے وقت آپ قسم اٹھا کر کہتے ہی رہے کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے (اور ممکن ہے کہ جن ایام میں متعہ کا جواز تھا یہ قرأت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قرأت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہیں) مگر آپ کی اس بات کو دو وجوہ کی بنا پر پذیرائی نہ ہو سکی۔ ایک یہ کہ جمع و تدوین قرآن کے معاملہ میں خبر متواتر کو قبول کیا گیا تھا اور آپ کی یہ خبر واحد تھی۔ جس کا دوسرا کوئی راوی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دو مکی سورتوں مومنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں:
﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ﴾
یعنی حفاظت فروج کے دو ہی ذریعے ہیں ایک بیوی، دوسرا لونڈی۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے گزرنا ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔ لونڈی نہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں اور بیوی اس لیے نہیں ہوتی کہ بیوی کو میراث ملتی ہے۔ اور ایسی عورت کو میراث نہیں ملتی۔
(2) سیدنا ابن عباسؓ بھی صرف متعہ کے معاملہ میں نرم گوشہ رکھتے تھے آپ کو اصرار قطعاً نہ تھا۔ جبکہ کثیر تعداد میں صحابہ متعہ کو حرام قرار دینے میں شدت اختیار کرتے تھے اور ابن عباسؓ کو ٹوکتے بھی تھے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ [مسلم۔ حواله ايضاً]
سیدنا ابن عباسؓ اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور جب یہ جواز متعہ کی بات کرتے تو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کرنے کے ساتھ ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جو متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس وقت عبد اللہ بن زبیرؓ خلیفہ تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم زیادتی کر رہے ہو میری عمر کی قسم! دور نبوی میں متعہ ہوتا رہا ہے۔ تو عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ اس متعہ کو اپنے آپ پر آزماؤ۔ خدا کی قسم! اگر تو ایسا کرے تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں۔ [مسلم، حواله ايضاً]
(3) معلوم ایسا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ابدی حرمت کا اعلان تمام صحابہ کرام تک نہ پہنچ سکا جو کہ دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے تھے۔ یا یہ سیدنا ابن عباسؓ کی لچک کا اثر تھا کہ دور صدیقی اور دور فاروقی کی ابتدا تک درپردہ متعہ کے کچھ واقعات کا سراغ ملتا ہے۔ سیدنا عمرؓ چونکہ متعہ کے شدید مخالف تھے لہٰذا آپ اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ سامنے آئے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص شام سے آیا اور اس نے ام عبد اللہ ابی فتیحہ کے ہاں قیام کیا اور اسے کہا کہ میرے متعہ کے لیے کوئی عورت تلاش کرو۔ ام عبد اللہ نے ایک عورت کا پتہ بتلایا تو اس آدمی نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا۔ پھر شام کو واپس چلا گیا۔ کسی نے اس واقعہ کی سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے ام عبد اللہ کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ کی تصدیق کر دی۔ سیدنا عمرؓ نے اسے کہا کہ جب وہ شخص پھر آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو ام عبد اللہ نے سیدنا عمرؓ کو اطلاع کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ تم نے متعہ کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ ”میں دور نبوی، دور صدیقی اور آپ کے عہد میں بھی متعہ کرتا رہا مگر کسی نے منع نہیں کیا۔“ سیدنا عمرؓ نے کہا اللہ کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں آج سے پہلے ممانعت کا حکم نہ دے چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کر دیتا۔ اچھا اب جدائی اختیار کر لو تاکہ نکاح اور سفاح (بد کاری) میں تمیز ہو سکے۔ یہ واقعہ در اصل مسلم میں جابر بن عبد اللہؓ کی اجمالی روایت کی تفصیل ہے اور اس واقعہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
1۔
سیدنا عمر کا تعزیری حکم:۔
سیدنا عمرؓ اور آپ کی پوری شوریٰ متعہ کی مخالف تھی۔ اگر ان میں بھی اختلاف ہوتا تو آپ ایسا تعزیری حکم نافذ نہ کر سکتے تھے۔
2۔ جو چند لوگ متعہ کے قائل تھے وہ بھی چوری چھپے یہ کام کرتے تھے۔ اگر یہ عام ہوتے تو سیدنا عمرؓ کو ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
3۔ معاشرہ کی اکثریت متعہ کو نا جائز اور مکروہ فعل ہی سمجھتی تھی۔ اگر یہ رسم عام ہوتی تو اس شامی کو ایسی عورت کا پتہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے یہ معاملہ ام عبد اللہ سے کیوں نہ طے کر لیا جس کے ہاں وہ ٹھہرا تھا۔ اس تعزیری قانون کے بعد ابن عباسؓ اور آپ کے شاگردوں مثلاً عطاء بن ابی رباح، طاؤس، سعید بن جبیر اور ابن جریج کے لیے اس کے بغیر چارہ نہ رہا کہ وہ متعہ کے ل۔ یے عقلی دلیل مہیا کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیں۔ اور وہ دلیل عقلی یہ تھی جو ابن عباسؓ کہا کرتے تھے کہ ”متعہ کا جائز ہونا اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر عمرؓ نے اس کی ممانعت نہ کر دی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔“ [تفسير مظهري 208] پھر جب دور عثمانی میں سیدنا ابن عباسؓ کی قرأت ﴿اليٰ اَجَلٍ مُّسَمّيٰ﴾ کو خبر متواتر نہ ہونے کی وجہ سے شرف قبولیت حاصل نہ ہو سکا اور یہ الفاظ کتاب اللہ میں شامل نہ ہو سکے تو متعہ کا فائدہ بتانے کا میلان بھی ختم ہو گیا۔ اور بالآخر آپ نے اپنے اس فتویٰ رخصت سے بھی رجوع کر لیا۔
[تفسیر حقانی ج 2 ص 145]
[42] آزاد عورت کا لونڈی کی نسبت حق مہر بھی زیادہ اور نان و نفقہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو ایک تو آزاد عورت سے نکاح کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو، دوسرے اسے یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے نکاح نہ کیا تو جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ آزاد عورت سے نکاح بہرحال بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس سے جو اولاد پیدا ہو گی اس کے ماتھے پر غلامی کا داغ نہ ہو گا۔ اور مجبوری کی صورت میں نکاح کی اجازت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھی آخر عورت ہی کی جنس سے ہیں۔
2۔ جو چند لوگ متعہ کے قائل تھے وہ بھی چوری چھپے یہ کام کرتے تھے۔ اگر یہ عام ہوتے تو سیدنا عمرؓ کو ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
3۔ معاشرہ کی اکثریت متعہ کو نا جائز اور مکروہ فعل ہی سمجھتی تھی۔ اگر یہ رسم عام ہوتی تو اس شامی کو ایسی عورت کا پتہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے یہ معاملہ ام عبد اللہ سے کیوں نہ طے کر لیا جس کے ہاں وہ ٹھہرا تھا۔ اس تعزیری قانون کے بعد ابن عباسؓ اور آپ کے شاگردوں مثلاً عطاء بن ابی رباح، طاؤس، سعید بن جبیر اور ابن جریج کے لیے اس کے بغیر چارہ نہ رہا کہ وہ متعہ کے ل۔ یے عقلی دلیل مہیا کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیں۔ اور وہ دلیل عقلی یہ تھی جو ابن عباسؓ کہا کرتے تھے کہ ”متعہ کا جائز ہونا اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر عمرؓ نے اس کی ممانعت نہ کر دی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔“ [تفسير مظهري 208] پھر جب دور عثمانی میں سیدنا ابن عباسؓ کی قرأت ﴿اليٰ اَجَلٍ مُّسَمّيٰ﴾ کو خبر متواتر نہ ہونے کی وجہ سے شرف قبولیت حاصل نہ ہو سکا اور یہ الفاظ کتاب اللہ میں شامل نہ ہو سکے تو متعہ کا فائدہ بتانے کا میلان بھی ختم ہو گیا۔ اور بالآخر آپ نے اپنے اس فتویٰ رخصت سے بھی رجوع کر لیا۔
[تفسیر حقانی ج 2 ص 145]
[42] آزاد عورت کا لونڈی کی نسبت حق مہر بھی زیادہ اور نان و نفقہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے، جو ایک تو آزاد عورت سے نکاح کے اخراجات برداشت نہ کر سکتا ہو، دوسرے اسے یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے نکاح نہ کیا تو جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ آزاد عورت سے نکاح بہرحال بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس سے جو اولاد پیدا ہو گی اس کے ماتھے پر غلامی کا داغ نہ ہو گا۔ اور مجبوری کی صورت میں نکاح کی اجازت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھی آخر عورت ہی کی جنس سے ہیں۔