حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری پالی ہوئی لڑکیاں، جو تمھاری گود میں تمھاری ان عورتوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھاری پشتوں سے ہیں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو گزر چکا۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
23۔ تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ [37] پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پا رہی ہوں بشرطیکہ تم اپنی بیویوں سے صحبت کر چکے ہو۔ اور اگر ابھی تک صحبت نہیں کی، تو ان کو چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی (تم پر حرام ہیں) جو تمہاری صلب سے ہوں۔ نیز یہ کہ تم [38] دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کر لو۔ مگر جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے [39] والا اور رحم کرنے والا ہے
[37] رضاعت کے رشتوں کی حرمت سے متعلق درج ذیل احادیث نبویہ بھی ملاحظہ فرمائیں: 1۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رشتے نسب کی رو سے حرام ہیں وہ رضاعت سے حرام ہو جاتے ہیں۔“ [بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادت علی الانساب]
رضاعت کے رشتے اور احکام رضاعت:۔
2۔ عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ ”میں نے عقبہ اور اس کی بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نے اسے کہا ”میں تو نہیں سمجھتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے نہ ہی تو نے مجھے کبھی بتایا۔“ پھر میں سوار ہو کر مدینہ آپ کے پاس پہنچا اور آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب یہ نکاح کیسے رہ سکتا ہے جبکہ ایسی بات کہی گئی ہے۔“ چنانچہ میں نے اسے چھوڑ دیا اور کسی دوسری سے نکاح کر لیا۔ [بخاری، کتاب العلم، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ] 3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت وہی معتبر ہے جو کم سنی میں بھوک بند کرے۔“ [بخاری کتاب النکاح، باب من قال لارضاع بعد حولین] 4۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ افلح ابو قعیس کا بھائی میرا رضاعی چچا تھا۔ وہ میرے ہاں آیا اور اندر آنے کی اجازت چاہی۔ یہ واقعہ پردہ کا حکم آنے کے بعد کا ہے۔ لہٰذا میں نے اسے اجازت نہ دی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے اندر آنے کی اجازت دے دوں۔ [بخاری، کتاب النکاح، باب لبن الفحل] 5۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ [ترمذی، ابواب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان] 6۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قرآن میں ایک آیت اتری تھی عشر رضعات معلومات یعنی دس بار دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ پھر وہ منسوخ ہو گئی اور پانچ بار کا حکم باقی رہا اور یہی حکم آپ کی وفات تک رہا۔ اور اسی کے مطابق سیدہ عائشہؓ فتویٰ دیا کرتی تھیں۔ [جائزۃ الشعوذی، جامع ترمذی۔ ابواب الرضاع، باب لاتحرم المصۃ ولا المصتان] رہی رضاعت کی مدت جس کے اندر دودھ چوسنے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے تو وہ بموجب ﴿حَوْلَيْنِكَامِلَيْنِ﴾ دو سال تک ہے اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سوا تمام فقہا اسی کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ رضاعت کی مدت اڑھائی سال قرار دیتے ہیں۔ نیز ان کے نزدیک ایک دفعہ چوسنے یا ایک گھونٹ سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔
[38] سنت کی رو سے حرام رشتے:۔
قرآن میں صرف دو حقیقی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت مذکور ہے جبکہ حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی جمع کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔“ [بخاری، کتاب النکاح، باب لاینکح المراۃ علی عمتھا۔ مسلم، کتاب النکاح 'باب تحریم الجمع بین المرأۃ و عمتھا]
[39] حرام رشتوں کی تفصیل:۔
آیت نمبر 23 کی رو سے درج ذیل عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور سنت سے اس کی مزید وضاحتیں کی گئی ہیں: 1۔ مائیں۔ اور ان میں دادیاں نانیاں بھی شامل ہیں۔ تا آخر۔ 2۔ بیٹیاں۔ اور ان میں پوتیاں، نواسیاں بھی شامل ہیں۔۔ تا آخر۔ 3۔ بہنیں۔ اور ان میں سگی، علاتی اور اخیافی بہنیں سب شامل ہیں۔ 4۔ پھوپھیاں۔ 5۔ خالائیں۔ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی، سب حرام ہیں۔ 6۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 7۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 8۔ رضاعی مائیں۔ 9۔ رضاعی بہنیں۔ اور رضاعت کی رو سے وہ سب رشتے حرام ہیں جو نسب کی رو سے حرام ہیں۔ 10۔ ساس، اور سالیاں جب تک کہ ان کی بہن نکاح میں ہو۔ 11۔ بیٹیاں اور سوتیلی بیٹیاں۔ 12۔ بہو (حقیقی بیٹے کی بیوہ) سے نکاح حرام ہے۔ 13۔ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اس حکم کے بعد فوراً ایک کو طلاق دے دی جائے گی۔ 14۔ اور اگلی آیت نمبر 24 کی رو سے تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔