ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 174

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔ En
لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے
En
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

174۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح [231] دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف صاف راہ دکھانے والا نور (قرآن کریم) نازل کیا ہے
[231] قرآن برہان کیوں ہے؟
برہان ایسی واضح دلیل کو کہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن اس لحاظ سے برہان ہے کہ اس نے اپنے مخالف تمام کفار کو چیلنج کیا کہ ”اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام ہے تو تم سب مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ“ لیکن عرب بھر کے تمام فصحاء، بلغاء اور شعراء ایسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ اسی ایک چیلنج سے تین چیزوں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ ثبوت بھی ایسا ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
(1) وجود باری تعالیٰ کا ثبوت (2) قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ثبوت اور (3) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اسی لحاظ سے قرآن کو برہان کہا گیا ہے۔ اور نور مبین اس لحاظ سے ہے کہ ہدایت انسانی یعنی دنیوی طریق زندگی اور اخروی نجات کے لیے زندگی کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والا ہے۔