اور بلاشبہ اس نے تم پر کتاب میں نازل فرمایا ہے کہ جب تم اللہ کی آیات کو سنو کہ ان کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔ بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو، بے شک اللہ منافقوں اور کافروں، سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔
En
اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے
اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وه اس کے علاوه اور باتیں نہ کرنے لگیں، (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے
En
140۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ حکم پہلے نازل [186] کر چکا ہے کہ جب تم سنو کہ آیات الٰہی کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو وہاں ان کے ساتھ مت بیٹھو تا آنکہ یہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں، ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے
[186] یہ حکم مکہ میں سورۃ انعام کی آیت نمبر 68 میں نازل ہوا تھا جو یہ تھا کہ ”جو لوگ ہماری آیات میں کج بحثیاں کرتے ہیں آپ ان سے الگ رہیے تا آنکہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان آپ کو یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔“ یعنی جو لوگ ایسی مجالس میں بیٹھیں جہاں علانیہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تضحیک اور استہزاء کیا جا رہا ہو یا سرے سے انکار ہی کیا جا رہا ہو اور وہ ایسی باتیں ٹھنڈے دل سے سن کر وہیں بیٹھے رہیں اور ان کی غیرت ایمانی کو ذرا بھی حرکت نہ ہو تو ان میں اور ان کافروں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر دے، ان کی زبانیں بند کر دے اور اگر دلائل سے انہیں حق بات کا قائل کر سکتا ہو تو ضرور کرے اور اگر یہ دونوں کام نہیں کر سکتا تو کم از کم خود وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو شخص کوئی برا (خلاف شرع) کام ہوتا دیکھے تو اسے چاہیے کہ بزور بازو اسے مٹا دے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو زبان سے ہی منع کر دے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔“ [مسلم، کتاب الایمان، باب کون النہی عن المنکر من الایمان] اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر دل میں بھی برا نہ جانے تو سمجھ لے کہ اس میں رائی برابر بھی ایمان نہیں۔ واضح رہے کہ سورۃ انعام مکہ میں نازل ہوئی تھی اور مکہ میں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے کفار مکہ تھے اور یہ سورۃ نساء مدینہ میں نازل ہوئی، یہاں اللہ کی آیات کا تمسخر اڑانے والے یہود مدینہ اور منافقین تھے گویا اللہ کے رسولوں، اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا ہر طرح کے کافروں کا پرانا دستور ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔