اے لوگو جو ایمان لائے ہو! انصاف پر پوری طرح قائم رہنے والے، اللہ کے لیے شہادت دینے والے بن جائو، خواہ تمھاری ذاتوں یا والدین اور زیادہ قرابت والوں کے خلاف ہو، اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو اللہ ان دونوں پر زیادہ حق رکھنے والا ہے۔ پس اس میں خواہش کی پیروی نہ کرو کہ عدل کرو اور اگر تم زبان کو پیچ دو، یا پہلو بچائو تو بے شک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پوری طرح با خبر ہے۔
En
اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی موﻻ کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے
En
135۔ اے ایمان والو! اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ وہ گواہی تمہارے اپنے یا تمہارے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف [178] ہی پڑے۔ اگر کوئی فریق دولت مند ہے یا فقیر ہے، بہرصورت اللہ ہی ان دونوں کا تم سے زیادہ [179] خیر خواہ ہے۔ لہذا اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر عدل کی بات کو چھوڑو نہیں۔ اور اگر گول مول سی [180] بات کرو یا سچی بات کہنے سے کترا جاؤ تو (جان لو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے
[178] انصاف کی گواہی کا تاکیدی حکم:۔
اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جرم کا برملا اعتراف کر لے خواہ اس کا کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے اور یہ بڑا حوصلے اور اجر و ثواب کا کام ہے۔ اپنے بعد سب سے قریبی والدین ہوتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے قرابت دار۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے خلاف گواہی دینے کی جرأت کر سکتا ہے وہ والدین اوراقرباء کے خلاف بدرجہ اولیٰ ایسی جرات کر سکے گا۔ اپنے خلاف گواہی دینے اور حق کی بات صاف صاف کہہ دینے سے بسا اوقات مخالف فریق پر بہت خوشگوار اثر پڑتا ہے اور اس کا دل از خود نرمی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ [179] دولت مند کے حق میں غلط گواہی اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح گواہی دینے والا اس سے کوئی دنیوی مفاد حاصل کر سکے۔ اور غریب کے حق میں اس لیے کہ امیر کے مقابلہ میں غریب پر رحم اور ترس کھانا چاہیے اور اس طرح شاید اس کا کچھ بھلا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ان دونوں کا اللہ وارث ہے اور وہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ ان کا بلکہ تمہارا اپنا بھی نفع و نقصان تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ لہٰذا جو بھی صورت ہو گواہی تمہیں انصاف کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک اور اللہ سے ڈر کر دینی چاہیے۔
[180] گواہی میں ہیرا پھیری کی صورتیں:۔
شہادت کے وقت لگی لپٹی یا گول مول سی بات مت کرو جس سے کسی فریق کو نقصان پہنچ جائے۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً مبنی برحق شہادت کا کچھ حصہ چھپایا جائے اور سمجھے کہ میں نے شہادت کے وقت جھوٹ نہیں بولا۔ تو یہ کتمان حق، جھوٹی شہادت سے بھی بڑا گناہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ گواہ کو واقعہ کا پورا پورا علم ہے لیکن وہ اس ترتیب سے توڑ موڑ کر اور ہیرا پھیری کر کے بیان کرے کہ بات کچھ کی کچھ بن جائے۔ اور اس کا مقصد کسی ایک فریق کو فائدہ پہچانا ہوتا ہے جس سے دوسرے کو از خود نقصان پہنچ جاتا ہے اور بعض دفعہ گواہ کسی اپنے ذاتی مفاد کے لیے بھی ایسے کام کرنے لگتا ہے۔ یہ سب صورتیں عدل و انصاف اور تقویٰ کے خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا وہی مفہوم ہے جو اوپر بیان ہوا ہے تاہم «كونوا قوامين بالقسط» کے الفاظ اس سے وسیع تر مفہوم کے حامل ہیں۔ قوام، قائم سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور قسط ایسا عام لفظ ہے جس میں دنیوی معاملات، خانہ داری، باہمی معاملات اور لین دین، اپنے اور بیگانے، کافر اور مومن ہر ایک سے انصاف کرنے کا حکم شامل ہے اور یہ صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے، اس سے ڈرتے ہوئے جو بات کرو انصاف کی کرو۔ نیک کو نیک اور بد کو بد کہو۔ بات کہو تو سچی کہو خواہ اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو رہا ہو یا اس کی زد تمہارے والدین یا کسی قریبی رشتہ دار پر پڑ رہی ہو۔ امیر اور غریب، کافر اور مومن کسی سے بھی رعایت نہ کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رعایت رکھو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔