ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 131

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ لَقَدۡ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیۡدًا ﴿۱۳۱﴾
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمھیں بھی تاکیدی حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر کرو گے تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر طرح بے پروا، ہرتعریف کا حق دار ہے۔ En
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے
En
زمین اور آسمانوں کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں ہے اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو تو یاد رکھو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

131۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں ہم نے تاکیدی حکم دیا تھا۔ اور تمہارے لیے بھی یہی حکم ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو گے تو (سمجھ لو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ تو اللہ ہی کا ہے اور وہ بڑا بے نیاز [174] اور حمد کے لائق ہے
[174] اللہ کی بے نیازی:۔
اس کائنات اور اس عالم دنیا سے اللہ کی بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے، انسان اور جن ّسب کے سب، سب سے زیادہ متقی آدمی کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہو گا۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن سب کے سب، سب سے فاجر آدمی کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ بھی کمی واقع نہ ہو گی۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے انسان اور جن سب کے سب ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کی مطلوبہ چیز دے دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں کوئی کمی نہ آئے گی مگر اتنی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے آتی ہے۔“
[مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ الخ]