ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النساء (4) — آیت 11

یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ لَکُمۡ نَفۡعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے، پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا اور اگر ایک عورت ہو تو اس کے لیے نصف ہے۔ اور اس کے ماں باپ کے لیے، ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے، جو اس نے چھوڑا، اگر اس کی کوئی اولاد ہو۔ پھر اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے، پھر اگر اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائے، یا قرض (کے بعد)۔ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں سے کون فائدہ پہنچانے میں تم سے زیادہ قریب ہے، یہ اللہ کی طرف سے مقرر شدہ حصے ہیں،بے شک اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اوﻻد ہو، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے واﻻ کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد [17] کے بارے میں تاکیداً حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر [18] ہو گا۔ اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں اور وہ دو سے زائد ہوں [19] تو ان کا ترکہ سے دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی ہو تو اس کا ترکہ کا نصف حصہ ہے۔ اگر میت کی اولاد بھی ہو اور والدین بھی تو والدین میں سے [20] ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے وارث صرف والدین ہوں تو ماں کا تہائی حصہ ہے اور اگر اس کے بہن بھائی بھی ہوں [21] تو ماں کا چھٹا حصہ ہے اور یہ تقسیم میت کا قرضہ اور اس کی وصیت ادا کرنے کے بعد ہو گی۔ تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ تمہیں فائدہ پہچانے کے لحاظ سے تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے قریب تر ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت [22] والا ہے
[17] اس سورۃ کی آیت نمبر 11، اور 12 میں میراث، وصیت اور قرضہ کے جو احکام بیان ہوئے ہیں۔ انہیں ہم سہولت کی خاطر نئی ترتیب سے پیش کرتے ہیں اور احادیث کے حوالوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ علم میراث یا علم الفرائض کی اہمیت 1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (علم) الفرائض اور قرآن خود سیکھو اور لوگوں کو سکھلاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں
[ترمذی: ابواب الفرائض، باب فی تعلیم الفرائض]
وصیت اور وراثت کے احکام:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم تین ہیں اور ان کے سوا جو کچھ ہے وہ فضل ہے۔ آیات محکمات کا علم، سنت قائمہ اور انصاف کے ساتھ ورثہ کی تقسیم۔
[دار قطنی، ابن ماجہ، حاشیہ حدیث ترمذی مذکورہ بالا]
قرضہ کی ادائیگی:
قرضہ کی ادائیگی کا ذکر اگرچہ وصیت کے بعد مذکور ہے تاہم میت پر قرضہ کے بوجھ کے متعلق احادیث صحیحہ میں جو وعید آئی ہے اس کی بنا پر امت کا اجماع ہے کہ تقسیم میراث کے وقت سب سے پہلے قرضہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اگر بیوی کا حق مہر ادا نہ ہوا ہو تو وہ بھی قرضہ ہے اگر میت پر حج فرض ہو چکا ہو مگر کسی وجہ سے کر نہ پایا ہو۔ یا اس نے منت مانی ہو تو اس قسم کے اخراجات تقسیم میراث اور وصیت پر عمل سے پہلے نکالے جائیں گے۔
وصیت کے احکام وصیت کی تحریر :۔
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص وصیت کرنا چاہتا ہو تو اسے دو راتیں بھی اس حال میں نہ گزارنا چاہئیں کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ [مسلم كتاب الوصية]
وصیت کی آخری حد ایک تہائی مال تک:۔
وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے دوران فرمایا۔ اللہ عز و جل نے ہر صاحب حق کا حق مقرر کر دیا لہٰذا اب وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔
[ترمذی، ابواب الوصایا باب لا وصیہ لوارث]
اسی طرح وصیت کی آخری حد ایک تہائی مال سے زیادہ نہیں ہے۔
5۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں بیمار ہوا اور مرنے کے قریب ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مال بہت ہے اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ کیا میں اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر میں نے کہ ”دو تہائی دے دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ پھر میں نے کہا ”نصف دے دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر میں نے پوچھا: تہائی دے دوں؟ فرمایا: ”تہائی دے سکتے ہو اور یہ بھی بہت ہے۔“ پھر فرمایا: ”اگر تم اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ بے شک جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ حتیٰ کہ اس نوالہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے۔“
[بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث البنات۔ نیز مسلم: کتاب الوصیۃ، باب وصیۃ بالثلث]
6۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں۔ ”کاش! لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔“ اور وکیع کی روایت میں کثیر اور کبیر کے الفاظ ہیں۔ [مسلم، كتاب الوصيه]
قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل مقتول کا وارث نہیں ہو سکتا۔“
[ترمذی، ابواب الفرائض باب فی ابطال میراث القاتل]
کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر یا مرتد مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔“ [بخاري، كتاب الفرائض۔ باب لايرث المسلم الكافر۔۔ مسلم، كتاب الفرائض]
میراث کی تقسیم سے متعلقہ احکام نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں پر وصیت فرض کی گئی تھی کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنے والدین اور دوسرے اقرباء کے متعلق وصیت کر جائیں کہ انہیں میت کی جائیداد سے کتنا کتنا حصہ دیا جائے۔ پھر میت کی وصیت میں اگر کوئی شخص گڑ بڑ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا بار گناہ انہی لوگوں پر ہو گا جو اس کی وصیت میں تبدیلی کریں گے۔ ہاں اگر کسی قریبی کو یہ خطرہ لاحق ہو جائے کہ وصیت کرنے والے نے جانبداری سے کام لیا ہے یا حصوں کی تقسیم کے متعلق انصاف کے ساتھ وصیت نہیں کی۔ اور ایسے غلط وصیت کردہ حصوں میں اصلاح کر دے (یعنی تبدیلی کرنے والے کی نیت بخیر ہو اور خود غرضی پر منحصر نہ ہو) تو اسے ایسی تبدیلی کرنے پر کچھ گناہ نہ ہو گا (سورہ بقرہ کی آیات نمبر 180 تا 182 کا ترجمہ) پھر جب اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں خود ہی والدین اور اقرباء کے حصے مقرر فرما دیئے (جسے علم الفرائض یا علم میراث کی اصطلاح میں ذوی الفروض یا ذوی الفرائض کہتے ہیں) تو ان آیات میراث کی رو سے وصیت کی فرضیت ختم ہو گئی۔ بالفاظ دیگر وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اور اب وصیت کی حیثیت فرض کے بجائے محض اختیاری رہ گئی۔ یعنی اگر کوئی شخص وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اور اگر نہ کرے یا کر ہی نہ سکے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس وصیت پر سنت نبویہ کی رو سے دو پابندیاں لگا دی گئیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا اور دوسرے یہ کہ وصیت ذوی الفروض کے حق میں نہیں کی جا سکتی جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں ان دونوں باتوں کی وضاحت آ گئی ہے۔ اور ان دونوں پابندیوں کی غرض و غایت یہ ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں میں گڑبڑ اور بے انصافی ہو جاتی ہے۔ گویا آپ کو پہلی شکایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی مال کی پابندی کیوں لگائی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو قرآن سے ثابت ہے کہ وراثت کے اصل حقدار والدین اور اقربین ہیں اور ان کے حصے اللہ نے خود مقرر کر دیئے جو غیر متبدل ہیں۔ پھر کوئی شخص سارے مال کی وصیت کیسے کر سکتا ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ وصیت میں اصلاح کا حق اگر کسی دوسرے شخص کو دیا جا سکتا ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت 182 سے ثابت ہے تو آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ وارثوں کے حق میں وصیت کی نفی بھی قرآن سے ثابت ہے کیونکہ یہ دوسرے حقداروں کے حق پر اثرانداز ہوتی ہے اور یہی وہ جانبداری یا نا انصافی کی بات ہے جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ: ”آپ اس کا خیال بھی کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم وصیت کو فرض قرار دے اور بلا مشروط یعنی پورے مال میں وصیت کا حق دے اور رسول اللہ یہ فرمائیں کہ نہیں وصیت ایک تہائی مال میں ہو سکتی ہے اور وہ بھی غیر وارثین کے لیے۔ خدا کے حکم میں ایسا رد و بدل یقیناً رسول اللہ کی شان کے خلاف ہے جن کا ایک ایک سانس قرآن کی اتباع میں گزرا (قرآنی فیصلے 111) اب دیکھئے پرویز صاحب کو کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا خیال آتا ہے اور کبھی مسلمانوں کی روایت پرستی کا۔ مگر انہیں یہ خیال کبھی بھولے سے بھی نہیں آتا کہ کہیں میری قرآنی بصیرت ہی کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں چل نکلی؟ اور اس قرآنی بصیرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے وصیت اور ترکہ کے الگ الگ احکام کو یوں گڈ مڈ کر دیا کہ دونوں کا جنازہ نکال دیا۔ اور ان کا اپنا موقف یہ ہے کہ ”میت کو اپنی جائیداد و اموال کی تقسیم میں پورا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے مصالح و مقتضیات کے مطابق جسے جی چاہے اور جتنا جی چاہے دے۔ ہاں اگر پھر بھی وصیت اور قرضہ کی ادائیگی کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ تقسیم ہو گا اور اگر نہیں بچتا تو نہ سہی“ [ايضاً ص 109] لہٰذا اب ہم ایک دوسرے انداز سے قرآن ہی سے یہ ثابت کریں گے کہ پرویز صاحب کا یہ موقف قرآن کے صریحاً خلاف ہے۔ نیز یہ کہ محولہ بالا دونوں احادیث قرآن کے عین مطابق ہیں آپ کے موقف کا پہلا حصہ یہ ہے کہ ”میت جسے چاہے دے دے۔“ اس ”جسے چاہے“ میں سے والدین اور اقربین کو بہرحال خارج کرنا پڑے گا۔ یعنی جسے چاہے کا اطلاق غیر وارثوں پر ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ والدین اور اقربین کے حصے تو اللہ نے خود مقرر کر دیئے ہیں۔ لہٰذا وارثوں کے حق میں وصیت کی ضرورت ختم ہو گئی۔ اور اگر کوئی شخص وارثوں کے مقررہ حصوں کے بعد کسی وارث کے حق میں وصیت کرے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ کے مقررہ کردہ حصوں سے مطمئن نہیں، نہ ہی اسے اللہ کے علم و حکمت پر کچھ اعتماد ہے۔ ایسا شخص اگر کسی وارث کے حق میں وصیت کر کے اللہ کے مقرر کردہ حق میں اضافہ کرتا ہے تو اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرے وارثوں کے حصوں میں اسی نسبت سے کمی واقع ہو گی اور اگر کسی کے حصہ میں کمی کرتا ہے یا اس کا حصہ ختم کرتا ہے تو ایسی وصیت باطل قرار پائے گی۔ کیونکہ ایسی وصیت سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 181 کی رو سے ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا کے ضمن میں آتی ہے جس کی اصلاح کر دینا ازروئے قرآن نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں جو شخص وارثوں کے حق میں کچھ وصیت کرتا ہے تو یہ وصیت خواہ کمی کی ہو یا بیشی کی یا تو آبائی جانب یعنی والدین کے متعلق ہو گی یا ابنائی جانب یعنی اولاد کے متعلق ہو گی اور ان دونوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ لَا تَدْرُوْنَ اَيّهُُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۭ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا [4: 11]
تم نہیں جانتے کہ فائدہ کے لحاظ سے تمہارے باپ داداؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے کون تم سے نفع کے لحاظ سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اگر کوئی شخص وارثوں کے حق میں اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے علی الرغم وصیت کرتا ہے تو وہ صرف اس آیت کی خلاف ورزی ہی نہیں کرتا بلکہ اللہ کے علم و حکمت کو بھی چیلنج بھی کرتا ہے۔ اور
﴿لَا تَدْرُوْنَ اَيّهُُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا
کو بھی۔ ان قرآنی دلائل سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وارثوں کے حق میں وصیت کرنا قرآن کے منشا کے خلاف ہے نیز پرویز صاحب کا یہ نظریہ کہ ’جتنا چاہے دے دے‘ کے زمرہ سے وارثوں کو بہرحال خارج کرنا ہی پڑے گا۔ اب پرویز صاحب کے موقف کے دوسرے حصہ ’جتنا چاہے دے دے‘ کی طرف آئیے۔ سورۃ بقرہ کی آیت 180 کی رو سے والدین اور اقربین کے لیے وصیت فرض قرار دی گئی اور سورۃ نساء کی آیت نمبر 11 کی رو سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی والدین اور اقربوں کا حصہ مقرر فرما دیا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ تقسیم ورثہ کے وقت والدین اور اقربون کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان دونوں کے نتائج کو ملانے سے نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی شخص اپنا سارا مال غیر وارثین کے لیے وصیت نہیں کر سکتا۔ وہ 'جتنا جی چاہے ' مال نہیں دے سکتا۔ بلکہ مال کا کچھ حصہ ہی وصیت کے ذریعہ دے سکتا ہے اور وہ بھی صرف غیر وارثوں کو دے سکتا ہے وارثوں کو نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ میت اپنے مال کا ”کچھ حصہ“ جو وصیت کر سکتا ہے وہ کیا ہونا چاہیے تو قرآن کے دونوں مقامات کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ متروکہ مال کے اصل حقدار والدین اور اقربوں ہی ہیں۔ لہٰذا مال کا زیادہ تر حصہ انہیں ہی ملنا چاہیے اور کم تر حصہ ایسا ہونا چاہیے جو میت اپنے اختیار سے کسی غیر وارث کو بذریعہ وصیت دے سکتا ہے۔ اب 'اس کم تر حصہ' کی تحدید فی الواقع قرآن میں مذکور نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ یہ کم تر حصہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال تک ہے اس سے زیادہ حصہ کی وصیت کی جائے گی تو یہ ﴿جَنَفًا اَوْ اِثْمًا کے ضمن میں آئے گی جس میں رد و بدل اور ترمیم کی جا سکتی ہے اور اس اصلاح کا حق اللہ تعالیٰ نے ہر مصلح کو دیا ہے۔ اور پرویز صاحب یہ حق میت کی موجودگی میں جماعت کو اور میت کی موت کے بعد اسلامی عدالت کو دیتے ہیں (قرآنی فیصلے ص 110) اور یہ بات تو شاید طلوع اسلام بھی تسلیم کرے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے سب سے بڑے مصلح، ہمدرد اور خیر خواہ بھی تھے اور اسلامی عدالت بھی۔ پھر اگر آپ کی یہ تحدید با اعتماد ذرائع سے درست ثابت ہو جائے اور یہ تحدید قرآن کے خلاف بھی نہ ہو بلکہ اس قاعدہ کے مطابق ہو کہ آپ کو قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر و تعیین کا حق بھی قرآن ہی نے دیا ہو تو پھر معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی متعین کی ہوئی حد کو تسلیم کرنے میں طلوع اسلام کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اور وہ اس بات کا واویلا کرنے میں کیسے حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ احادیث قرض کے صریحاً خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی اکثریت، جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت تسلیم کرتی ہے، کے عقیدہ کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحدید وحی خفی کے ذریعہ فرمائی تھی جو ﴿بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ میں شامل ہوتی ہے۔
[18] قرآن میں مذکور وراثت کے حصے:۔
سب سے پہلے اولاد کے حصوں کا ذکر کیا گیا اور اس میں یہ کلیہ بیان کیا گیا کہ ہر لڑکے کا حصہ لڑکی سے دگنا ہو گا۔ یہ اس لیے کہ اسلام نے معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ مرد پر ڈالا اور عورت کو اس سے سبکدوش کر دیا ہے اور جب مرد کمانے کے قابل نہیں رہتا مثلاً باپ، دادا وغیرہ تو اس کا حصہ عورت یعنی ماں، دادی وغیرہ کے برابر ہوتا ہے۔ [19] اگر اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو اگر ایک لڑکی ہو تو اسے آدھا ترکہ ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی۔ اور یہ عورتوں کے حصہ کی آخری حد ہے۔ شیعہ حضرات کی طرف سے سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کو مطعون کرنے کے سلسلہ میں ایک یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابو بکرؓ سے اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے وراثت کا حصہ مانگا تو سیدنا ابو بکرؓ نے انہیں بموجب حکم قرآن نصف حصہ ترکہ کا دینے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح سیدنا عمرؓ کے دور خلافت میں سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے یہی حصہ مانگا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا لہٰذا یہ دونوں غاصب ہیں۔ جس طرح انہوں نے سیدنا علیؓ سے حق خلافت غصب کیا تھا اسی طرح سیدہ فاطمہ کا حق وراثت غصب کیا تھا۔ اس اعتراض میں حق خلافت کے غصب کا جواب تو ہم آگے چل کر اسی سورۃ کی آیت نمبر 54 کے حاشیہ میں دیں گے اور حق وراثت کا جواب دے رہے ہیں۔
آپﷺ کی وراثت:۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیتیں دو تھیں: ایک شخصی یا ذاتی اور دوسری بحیثیت رسول اور فرمانروائے ریاست اسلامی۔ لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ان دو حیثیتوں کے لحاظ سے آپ کا ترکہ کیا تھا اور ان سے متعلق آپ نے کیا احکام صادر فرمائے تھے۔ ذاتی حیثیت سے ترکہ اور اس کے احکام سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمایئے:
1۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دینار (بطور ترکہ) چھوڑا اور نہ درہم۔ نہ کوئی غلام اور نہ لونڈی۔ صرف ایک سفید خچر چھوڑا جس پر آپ سواری کرتے تھے یا کچھ جنگی ہتھیار تھے اور جو زمین تھی وہ آپ مسافروں کے لیے صدقہ کر گئے تھے۔
[بخاری، کتاب الفرائض، باب قول النبی لا نورث ماترکنا صدقۃ]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ (ابو الشحم) یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
[بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما قیل فی درع النبی]
3۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور کچھ باسی چربی لے گیا اس وقت آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ نے اپنی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی اور اس سے اپنی بیویوں کے لیے جو لیے تھے۔ اور میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ محمد کے گھر والوں کے پاس کبھی شام کو ایک صاع گیہوں یا غلہ جمع نہیں رہا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔
[بخاری، کتاب البیوع، باب شری النبی النسیئۃ]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے تین مدعی ان احادیث سے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی ترکہ کچھ بھی نہ تھا۔ باقی اموال فے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا تھا کہ آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان اموال کو جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں صرف کریں۔ ان اموال میں ایک تو فدک کا باغ تھا، دوسرے کچھ خیبر کی زمین اور کچھ زمین مدینہ کی بھی تھی۔ جس کا کوئی مالک نہ تھا اور وہ سرکاری تحویل میں تھی۔ ان اموال میں سے ایک تو آپ اپنی بیویوں کا سالانہ خرچہ رکھ لیتے تھے۔ وہ بھی بڑی کفایت شعاری کے ساتھ۔ کچھ اپنے نادار اقربا میں تقسیم کرتے تھے۔ کچھ جہاد کے اخراجات اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ فرماتے۔ گویا یہ بیت المال کی ملکیت ہوتی تھی۔ یہی وہ اموال تھے جن کے متعلق ورثاء نے سیدنا ابو بکرؓ اور پھر سیدنا عمرؓ کے ہاں دعویٰ کیا تھا اور مدعی تین فریق تھے۔ ایک سیدہ فاطمہ جن کا آیت میراث کی رو سے 2/1 حصہ بنتا تھا۔ دوسرے آپ کی بیویاں، جن کا 8/1 حصہ بنتا تھا اور تیسرے آپ کے چچا سیدنا عباسؓ جن کا بطور عصبہ باقی یعنی 8/3 حصہ بنتا تھا۔ اب ان سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے اس ترکے سے حصہ مانگا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بطور فے عطا فرمائے تھے۔ ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ اس بات پر سیدہ فاطمہؓ ناراض ہو کر چلی گئیں۔ پھر سیدہ فاطمہؓ نے اپنی وفات تک ابو بکرؓ سے ملاقات نہ کی اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ آپ باغ فدک، خیبر اور مدینہ کی زمینوں سے اپنا حصہ مانگتی تھیں تو سیدنا ابو بکرؓ نے یہ جواب دیا کہ میں کوئی بات چھوڑنے والا نہیں جو آپ کیا کرتے تھے۔ ان اموال کی تقسیم جیسے آپ کیا کرتے تھے۔ میں ویسے ہی کرتا رہوں گا اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ آپ کی کوئی بات چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔
[بخاری، کتاب الجہاد، باب فرض الخمس]
2۔ اور ایک دوسری حدیث کے مطابق جو سیدہ عائشہؓ ہی سے مروی ہے۔ سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباسؓ دونوں نے سیدنا ابو بکرؓ سے اموال فے کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الگ الگ مواقع ہوں۔ اور سیدنا ابو بکرؓ نے ان دونوں کو وہی جواب دیا جو مندرجہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ [بخاري، كتاب المغازي۔ باب حديث بني نضير و مخرج رسول الله اليهم]
3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس بھیجا اور وہ اموال فے میں سے اپنا آٹھواں حصہ مانگتی تھیں۔ میں نے انہیں منع کیا اور کہا ”تمہیں اللہ کا خوف نہیں۔ کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔“ چنانچہ آپ کی بیویاں ترکہ مانگنے سے باز آگئیں۔
[بخاری کتاب المغازی۔ باب حدیث بنی نضیر ومخرج رسول اللہ الیھم]
مندرجہ بالا تین احادیث تو دور صدیقی سے متعلق ہیں۔ اور دور فاروقی میں مدعی صرف دو تھے۔ ایک سیدنا علیؓ اپنی زوجہ سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے اور دوسرے سیدنا عباسؓ عصبہ کی حیثیت سے۔ ان دونوں نے اموال فے سے ترکہ کا مطالبہ کیا تو سیدنا عمرؓ نے دلائل دینے کے بعد کہا کہ میں یہ اموال صرف اس شرط پر آپ کے حوالہ کر سکتا ہوں کہ تم ان کے متولی بن کر رہو اور اسی طرح تقسیم کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بات ان دونوں نے تسلیم نہ کی۔ پھر دوسری بار گئے تو بھی سیدنا عمرؓ نے وہی جواب دیا تو ان دونوں حضرات نے اس مرتبہ تولیت کی شرط قبول کر لی اور سیدنا عمرؓ نے یہ اموال ان کی تحویل میں دے دیئے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر تم نے یہ شرط پوری نہ کی تو میں پھر یہ اموال اپنی تحویل میں لے لوں گا۔ پھر عملاً یہ ہوا کہ سیدنا علیؓ ہی بطور متولی ان اموال پر قابض ہو گئے اور سیدنا عباسؓ کو نزدیک نہ آنے دیا۔ پھر سیدنا علیؓ کے بعد یہ امام حسنؓ کے، پھر ان کے بعد امام حسینؓ کے، پھر ان کے بعد امام زین العابدین علی بن حسین اور پھر حسن بن حسن (حسن مثنیٰ) دونوں کے قبضے میں رہے اور وہ باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر زید بن حسن بن علی (ان کے بھائی) کے پاس رہے اور ہر شخص کے پاس اسی طریق سے رہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہے (یعنی یہ حضرات متولی بن کر رہے۔ مالک بن کر نہیں رہے) اب ہم ایک طویل حدیث سے اقتباس پیش کرتے ہیں جو ان جملہ امور پر روشنی ڈالتی ہے:
فی الحقیقت رسول اللہﷺ کا صدقہ ہی تھا:۔
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمرؓ نے بلا بھیجا۔ میں وہاں پہنچا ہی تھا کہ سیدنا عمرؓ کا غلام یرفا آکر کہنے لگا کہ حضرات عثمانؓ، عبد الرحمن بن عوفؓ، زبیرؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ آئے ہیں۔ اور آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے اجازت دے دی۔ وہ آکر بیٹھے ہی تھے کہ یرفا پھر آیا اور کہنے لگا کہ عباسؓ اور علیؓ آئے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے انہیں بھی بلا لیا۔ چنانچہ سیدنا عباسؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: امیر المومنین میرا اور اس شخص کا فیصلہ کر دیجئے۔ یہ دونوں حضرات بنو نضیر کے اموال فے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپس میں گالی گلوچ پر اتر آئے تھے۔ سیدنا عثمانؓ اور ان کے ساتھی کہنے لگے: امیر المومنین ان کا فیصلہ کر کے انہیں ایک دوسرے سے نجات دلائیے۔ سیدنا عمرؓ نے ان دونوں سے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟“ ان دونوں نے کہا 'بے شک' پھر سیدنا عمرؓ نے فے سے متعلق سورۃ حشر کی آیات پڑھ کر فرمایا، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اموال کو اپنی ذات کے لیے جوڑ نہیں رکھا۔ بلکہ تم لوگوں کو دیا اور بانٹا۔ اسی مال سے آپ اپنی بیویوں کا سال بھر کا خرچ نکالتے اور جو مال بچ جاتا اسے تا زیست سامان جنگ اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کرتے رہے۔ پھر سیدنا ابو بکرؓ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام تھے اسی طرح کرتے رہے۔ حالانکہ تم دونوں اس وقت بھی یہ کہتے تھے کہ ابو بکرؓ کی یہ کار روائی ٹھیک نہیں ہے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ ابو بکرؓ سچے، راست باز، ٹھیک راستے پر چلنے والے اور حق کے تابع تھے۔ پھر ان کے بعد اب میں ان دونوں کا جانشین ہوں۔ پھر تم دونوں (عباس اور علیؓ) میرے پاس آئے۔ اس وقت تم دونوں کی بات ایک اور معاملہ ایک تھا۔ پھر اے عباس! تم اکیلے بھی میرے پاس آئے اور میں نے یہی کہا کہ انبیاء کا مال صدقہ ہوتا ہے۔ پھر میں نے تم دونوں سے کہا کہ میں تمہیں یہ اموال صرف اس شرط پر دیتا ہوں کہ تم اس کی تقسیم ویسے ہی کرو جیسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکرؓ اور میں کرتے رہے۔ اگر یہ شرط منظور ہے تو ٹھیک ورنہ مجھ سے گفتگو نہ کرو۔ تم نے یہ شرط مان لی تو میں نے یہ اموال تمہارے حوالے کر دیے۔ اب تم اور کیا چاہتے ہو؟ اب اگر تم اس مال کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو اور تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہو سکتا تو پھر یہ کام میرے سپرد کر دو۔ میں ہی یہ کام سر انجام دیا کروں گا۔ مگر وہ اٹھ کر چلے گئے اور انہوں نے اموال کو واپس سیدنا عمرؓ کی تحویل میں دینا گوارا نہ کیا اور عملاً ان اموال پر سیدنا علیؓ قابض ہو گئے۔ چنانچہ عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ یہ مال سیدنا علیؓ کے قبضہ میں رہا۔ انہوں نے سیدنا عباسؓ کو اس پر قبضہ نہ کرنے دیا۔ پھر اس کے بعد حسن بن علیؓ کے قبضہ میں آیا، پھر حسین بن علیؓ کے قبضہ میں، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن دونوں کے قبضہ میں، جو باری باری اس کا انتظام کرتے تھے۔ پھر زید بن حسن کے قبضہ میں رہا۔ اور یہ اموال فی الحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہی رہے۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی نضیر و مخرج رسول اللہ الیھم]