بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے اور تو خیانت کرنے والوں کی خاطر جھگڑنے والا نہ بن۔
En
(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا
یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو
En
105۔ ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ جو کچھ بصیرت اللہ نے آپ کو عطا کی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان [143] فیصلہ کریں اور آپ کو بد دیانت [144] لوگوں کی حمایت میں جھگڑا نہ کرنا چاہیے
[143] گمشدہ سامان سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی:۔
اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔ تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہوا تھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہو گئی۔ اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرا دی جہاں سے کچھ برآمد نہ ہو سکا۔ اب مالک پیچھا کرتا ہوا اس یہودی کے ہاں پہنچا اور اپنی چوری کا ذکر کیا تو یہودی کہنے لگا ایسی زرہ تو میرے پاس موجود ہے لیکن وہ تو فلاں شخص نے میرے پاس بطور امانت رکھی ہے۔ لہٰذا میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ بالآخر مالک یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا۔ اب چور اور اس کے خاندان والوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اصل مجرم اس یہودی کو ہی ثابت کیا جائے اور امانت کا درمیان میں نام ہی نہ آنے دیا جائے اور اس واقعہ سے قطعی لاعلمی کا اظہار کر دیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ آپ یہود کی بات کا اعتبار نہیں کریں گے اس طرح ہم بری ہو جائیں گے۔ چنانچہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ انصاری چور اور اس کے حمایتیوں نے اس واقعہ سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا اور قسمیں بھی کھانے لگے جس کے نتیجہ میں آپ ان خائنوں کی باتوں میں آ گئے اور یہودی کو جھوٹا سمجھا اور قریب تھا کہ آپ اس انصاری چور کو بری قرار دے دیں اور یہودی کو مجرم قرار دے دیں اور یہودی کے حق میں قطع ید کا فیصلہ سنا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اصل صورت حال سے مطلع فرما دیا اور تنبیہ فرمائی، کہ آپ کو ایسے بد دیانت لوگوں کی قطعاً حمایت نہ کرنا چاہیے۔ [144] اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بنا پر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پر ہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔ مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔