اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کر لو، اگر ڈرو کہ تمھیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ بے شک کافر لوگ ہمیشہ سے تمھارے کھلے دشمن ہیں۔
En
اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں
101۔ اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تمہارے لیے نماز [138] مختصر کر لینے میں کوئی حرج نہیں (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں تشویش میں ڈال دیں گے۔ کیونکہ کافر تو بلا شبہ تمہارے کھلے دشمن ہیں
[138] اس آیت میں اگرچہ سفر کے ساتھ دشمن کے اندیشہ کا بھی ذکر ہے تاہم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ہر طرح کے سفر میں نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سفر فی سبیل اللہ ہی ہو بلکہ ہر سفر میں قصر کی جا سکتی ہے رہی یہ بات کہ کتنے فاصلہ کو سفر کہہ سکتے ہیں اس میں بھی اگرچہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ہمارے لیے یہ امر کافی اطمینان کا باعث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کوئی عورت ایک رات بھی محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔“ [بخاری، کتاب العمرۃ، باب حج النساء] گویا اتنی مسافت جہاں سے ایک انسان پیدل رات کو اپنے گھر واپس نہ پہنچ سکتا ہو، وہ سفر ہے اور سیدنا عمرؓ نے اسے اپنے دور خلافت میں ایک عورت کے سفر پر محمول کرتے ہوئے اس دور کے 9 میل کی مسافت کو سفر قرار دیا تھا جو آج کل کے پیمانہ کے لحاظ سے 25 کلو میٹر بنتا ہے۔ یعنی ایک کمزور انسان پیدل ایک دن میں 25 کلو میٹر جانے کا اور اتنا ہی آنے کا کل 50 کلو میٹر مسافت طے نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اتنی مسافت پر سفر کا اطلاق ہو گا۔ سفر میں اگر قصر نہ کی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ تاہم قصر کرنا ہی افضل ہے۔ پھر سفر میں دو نمازیں اکٹھی کر کے پڑھنے کا موقع آ جاتا ہے۔ ایسی تفصیلات کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔
سفر میں قصر جمع اور سفر کی تعیین:۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں ”ابتداء سفر و حضر میں نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی۔ پھر سفر کی نماز تو اتنی ہی برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کیا گیا۔ (منیٰ میں“) [بخاری، ابواب تقصیرالصلٰوۃ، باب یقصر اذا خرج من موضعہ مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب صلٰوۃ المسافرین] 2۔ حارث بن وہب فرماتے ہیں کہ منیٰ میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت (نماز قصر) پڑھائی۔ حالانکہ آپ بالکل امن میں تھے۔ [بخاری، ابواب تقصیر الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃبمنیٰ] 3۔ یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرؓ سے کہا کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہیں (کافروں کا) خوف ہو تو نماز میں قصر کرو اور اب تو ہم امن میں ہیں۔“ سیدنا عمرؓ نے جواب دیا ”اسی بات پر میں نے بھی تعجب کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ نے آپ پر کیا لہٰذا اس کا صدقہ قبول کرو۔“ [ترمذی، ابواب القصر] 4۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کر کے تین رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔ پھر تھوڑی دیر بعد عشاء کی اقامت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔“ [بخاری، ابواب تقصیرالصلٰوۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر] 5۔ عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے مدینہ میں رہ کر (یعنی بلا سفر) سات رکعتیں مغرب اور عشاء کی اور آٹھ رکعتیں ظہر اور عصر کی (ملا کر) پڑھیں۔ ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے کہا ”شاید بارش کی رات میں ایسا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا ”شاید“ [بخاری، کتاب مواقیت الصلٰوۃ، باب تاخیر الظہر الی العصر]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔