ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 73

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾
اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔ En
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ
En
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے انہیں گروہ در گروہ [93] جنت کی طرف چلایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغے انہیں کہیں گے: ”تم پر سلامتی ہو، خوش ہو جاؤ اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو جاؤ
[93] جنت کے درجات :۔
جس طرح کفر کے بہت سے درجات اور اقسام ہیں اسی طرح ایمان اور تقویٰ کے بھی بہت سے درجات ہیں۔ اور ایک حدیث کے مطابق جنت کے سو درجات ہیں جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایمان و تقویٰ کے بھی اتنے ہی درجات ہیں۔ ان متقین کی بھی درجوں کے لحاظ سے گروہ بندی کی جائے گی۔ انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب یہ گروہ جنت کے پاس پہنچیں گے۔ تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جنت کے محافظ فرشتے ان کے استقبال کو آگے بڑھ کر ان پر سلام پیش کریں گے۔ انہیں داخلہ کی بشارت اور مبارک باد دیں گے اور اعلان عام ہو گا کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ۔