ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 18

الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۸﴾
کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلوں والے ہیں۔ En
جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں
En
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین [28] پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔
[28] اتباع احسن سے کیا مراد ہے؟
ان لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی اس صورت میں پیروی کرتے ہیں جو بہتر سے بہتر ہو۔ مثلاً نماز کی ادائیگی کی جائے تو خلوص نیت اور اللہ کی رضا اور اس کی محبت کے جذبے سے ادا کرے۔ بروقت اور با جماعت ادا کرے۔ طہارت اچھی طرح کرے۔ نماز میں خشوع و خضوع ہو اور ظاہری ارکان و آداب بھی درست ہوں۔ تو یہ نماز کی اچھی سے اچھی صورت ہے۔ اب اگر کوئی شخص نماز تو با جماعت ادا کرتا ہے لیکن نماز میں خیال بس دنیوی باتوں کے ہی آتے رہیں۔ نماز میں بے توجہی ہو۔ فضول حرکتیں بھی کرتا رہے اور سست اور ڈھیلا ڈھالا کھڑا رہے۔ تو نماز تو اس نے بھی ادا کر لی۔ اور اللہ کے حکم کی اطاعت بھی ہو گئی مگر یہ احسن صورت نہیں۔ اور پہلے اور اس شخص کی نماز میں بہت فرق ہے۔ یہی حال تمام اعمال کا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ باتیں تو سب کی سنتے ہیں مگر قبول صرف وہ بات کرتے ہیں جو ان سے بہتر ہو پھر اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔