ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الزمر (39) — آیت 17

وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوش خبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے ۔ En
اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو
En
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ جو لوگ [26] طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے لہذا میرے بندوں کو بشارت [27] دے دیجئے
[26] طاغوت کا مفہوم :۔
طاغوت کا معنی عموماً بت یا شیطان کر لیا جاتا ہے۔ ان الفاظ سے اس لفظ کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت یا عبادت کی جاتی ہو یا وہ خود اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت یا عبادت لوگوں سے کروانا پسند کرتا ہو، گویا طاغوت سے مراد دنیا دار چودھری اور حکمران بھی ہو سکتے ہیں کوئی ادارہ یا پارلیمنٹ بھی ہو سکتی ہے۔ بت، شیطان اور جن بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے پیر فقیر بھی ہو سکتے ہیں جو اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت کروانا پسند فرماتے ہیں اور شریعت پر طریقت کو ترجیح دیتے ہیں۔
[27] یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر قسم کے طاغوت کی اطاعت یا عبادت سے بچتے رہے اور تنگی ترشی میں بھی اللہ کی ہی اطاعت و عبادت کرتے رہے، اسی کی طرف رجوع کیا اور اسی پر توکل کیا۔