ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ ص (38) — آیت 7

مَا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِی الۡمِلَّۃِ الۡاٰخِرَۃِ ۚۖ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ ۖ﴿ۚ۷﴾
ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ En
یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے
En
ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو ہم نے زمانہ قریب کے دین [7] میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔
[7] یعنی قریب کے زمانہ میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں یہودی اور عیسائی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔ ایران، عراق اور مشرقی عرب مجوسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ اللہ کے پیاروں کے تصرفات کو تو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے فی الواقع لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی ہو جاتی ہے۔ پھر آخر اللہ اکیلے پر کون اکتفا کرتا ہے؟ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تابعداری کریں اور یہ ہمارا حاکم بن جائے۔