ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 101

فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔ En
تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی
En
تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت [55] دی
[55] سیدنا اسماعیل کی بشارت:۔
آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہٰذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسمٰعیلؑ کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔