15۔ وہ کہنے لگے: ”تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو [16] اور اللہ نے تو کچھ بھی نہیں اتارا (بلکہ) تم تو محض جھوٹ [17] بولتے ہو“
[16] قریش بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کچھ کہتے تھے کہ تم بھی ہمارے ہی جیسے بشر ہو آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمہیں ہی نبوت کے لئے منتخب کیا اور یہ ایسا اعتراض ہے جو ہر نبی کے منکر اپنے اپنے نبی کے متعلق کرتے آئے تھے۔ گویا نبوت کے متعلق جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہو سکتا اور اس کے عین برعکس دوسرا جاہلی تصور یہ ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ قرآن سب انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔ [17] قریش مکہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ الزام دیتے تھے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے خود ہی تصنیف کر کے اللہ کے نام سے منسوب کر دیتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔